نعت اورتنقیدنعت
جب نعت نے ’’ورفعنالک
ذکرک‘‘ کا تاج زر یں سر کی زینت بنایا تو اس کے حسن وجمال، عظمت و انفرادیت و
شعریت کے چرچے چہارسو پھیل گئے۔ لفظوں نے اظہارِ عقیدت اور شعروں نے جمالِ نورانیت
کے جلوے سمولیے اور جیسے جیسے تحقیق و جستجو نے ہر دَور، ہر صدی کوکمالِ محبت سے
کے ساتھ کھنگالا تو ایک ہی حقیقت سامنے آئی کہ سیّدنا حسان بن ثابت ص سے لے کر
علامہ محمد اقبال تک ہر دَور دورِ نعت رہا۔ کمی تھی تو صرف ذرائع ابلاغ کی تھی جس
کی بدولت سالوں کا سفر لمحوں میںطے ہو جاتا ہے۔ لیکن بحمداللہ سیّدنا حسان، سیدنا
کعب، سیّدنا عبداللہ بن رواحہ ث، قدسی، جامیؔ، عرفیؔ، رومیؔ، احمد رضاؔ خان سے
حفیظ تائبؔ تک کا سفرِ نعت کسی بھی عہد کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہوا۔ جب بزم ہستی
کے کارپردازان کی تعداد لاکھوں سے اربوں تک پہنچی تو نعت گو بھی سیکڑوں سے گزرکر
ہزاروں کی صورت میں زمانے بھر کو فیضیاب کرنے لگے۔نعت گوئی کی تعداد فکرو تخیل سے
زیادہ ہوئی تو تنقیدِ نعت کا تصور وقت کا تقاضا بن کر اُبھرا۔ اگر تنقید تحقیق کا
پرچم اپنے وجود کا احساس نہ دلاتا تو رطب و یابس کے نام پر نعت میں وہ کچھ آنے
لگتا جو کسی بھی صاحبِ ایمان کو گوارانہیں تھا۔ تنقید و تحقیق کا مطلب تنقیص یا
عیب جوئی نہیں بلکہ اصل مقصد نعت کی شاہ راہ پر چلنے والوں کی راہنمائی ہے۔ شروع
میں بعض عناصر نے گھبراہٹ یا نامانوسیت کا اظہار کیا مگر آہستہ آہستہ تنقیدِ نعت
سب کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ فروعِ نعت کے لیے ماہ نامہ ’’نوائے وقت‘‘، ماہ نامہ
’’شام و سحر‘‘، ماہ نامہ ’’نعت‘‘، ماہ نامہ ’’حمد و نعت‘‘ کے شمارے اُبھرے،
جنھوںنے نعت کو ہی موضوع بنائے رکھا مگر تنقیدِ نعت کو کسی نے بھی مستقل طو رپر
نعت نگارانِ نبیﷺ کے لیے فکری راست روی کا ذریعہ نہ بنایا۔ یہ افتخار ’’نعت رنگ‘‘
کے مدیر اور معروف انشا پرداز، نعت گو، نعت خواں سیّد صبیح الدین صبیح رحمانیؔ کے
حصے آیا کہ فروغِ نعت کے لیے تنقید کو ’’نعت رنگ‘‘ کے لیے مستقل طور پر لازم و
ملزوم بنا دیا۔ااسی فکرکو مقصدِ حیات بناکر ہم نے سہ ماہی ’’جہانِ نعت ‘‘ کا آغاز
کیا ہے۔امیدکہ اصحاب قلم اپنے علمی وعملی تعاون سے فروغِ نعتیہ ادب میں ہمارا ساتھ
دیں گے
ذکرک‘‘ کا تاج زر یں سر کی زینت بنایا تو اس کے حسن وجمال، عظمت و انفرادیت و
شعریت کے چرچے چہارسو پھیل گئے۔ لفظوں نے اظہارِ عقیدت اور شعروں نے جمالِ نورانیت
کے جلوے سمولیے اور جیسے جیسے تحقیق و جستجو نے ہر دَور، ہر صدی کوکمالِ محبت سے
کے ساتھ کھنگالا تو ایک ہی حقیقت سامنے آئی کہ سیّدنا حسان بن ثابت ص سے لے کر
علامہ محمد اقبال تک ہر دَور دورِ نعت رہا۔ کمی تھی تو صرف ذرائع ابلاغ کی تھی جس
کی بدولت سالوں کا سفر لمحوں میںطے ہو جاتا ہے۔ لیکن بحمداللہ سیّدنا حسان، سیدنا
کعب، سیّدنا عبداللہ بن رواحہ ث، قدسی، جامیؔ، عرفیؔ، رومیؔ، احمد رضاؔ خان سے
حفیظ تائبؔ تک کا سفرِ نعت کسی بھی عہد کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہوا۔ جب بزم ہستی
کے کارپردازان کی تعداد لاکھوں سے اربوں تک پہنچی تو نعت گو بھی سیکڑوں سے گزرکر
ہزاروں کی صورت میں زمانے بھر کو فیضیاب کرنے لگے۔نعت گوئی کی تعداد فکرو تخیل سے
زیادہ ہوئی تو تنقیدِ نعت کا تصور وقت کا تقاضا بن کر اُبھرا۔ اگر تنقید تحقیق کا
پرچم اپنے وجود کا احساس نہ دلاتا تو رطب و یابس کے نام پر نعت میں وہ کچھ آنے
لگتا جو کسی بھی صاحبِ ایمان کو گوارانہیں تھا۔ تنقید و تحقیق کا مطلب تنقیص یا
عیب جوئی نہیں بلکہ اصل مقصد نعت کی شاہ راہ پر چلنے والوں کی راہنمائی ہے۔ شروع
میں بعض عناصر نے گھبراہٹ یا نامانوسیت کا اظہار کیا مگر آہستہ آہستہ تنقیدِ نعت
سب کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ فروعِ نعت کے لیے ماہ نامہ ’’نوائے وقت‘‘، ماہ نامہ
’’شام و سحر‘‘، ماہ نامہ ’’نعت‘‘، ماہ نامہ ’’حمد و نعت‘‘ کے شمارے اُبھرے،
جنھوںنے نعت کو ہی موضوع بنائے رکھا مگر تنقیدِ نعت کو کسی نے بھی مستقل طو رپر
نعت نگارانِ نبیﷺ کے لیے فکری راست روی کا ذریعہ نہ بنایا۔ یہ افتخار ’’نعت رنگ‘‘
کے مدیر اور معروف انشا پرداز، نعت گو، نعت خواں سیّد صبیح الدین صبیح رحمانیؔ کے
حصے آیا کہ فروغِ نعت کے لیے تنقید کو ’’نعت رنگ‘‘ کے لیے مستقل طور پر لازم و
ملزوم بنا دیا۔ااسی فکرکو مقصدِ حیات بناکر ہم نے سہ ماہی ’’جہانِ نعت ‘‘ کا آغاز
کیا ہے۔امیدکہ اصحاب قلم اپنے علمی وعملی تعاون سے فروغِ نعتیہ ادب میں ہمارا ساتھ
دیں گے
ربّ کائنات نے حضور علیہ
الصلوٰۃ والسلام کے ذکرِ کی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سربلندی کا اعلان فرما کر ہمارے
اذہان اور قلوب کو باور کرا دیا ہے کہ ہر دور دورِ نعت ہے پہلی صدی ہجری ہو یا
چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا ظہور ہو یہ صدی تذکارِ مصطفیﷺ سے آباد رہی
ہے۔ ہر دور اور ہر زمانہ رفعتِ مقاماتِ
مصطفویﷺ کا ایمان آفریں نظارا دیکھتا رہا ہے۔ ہر صدی کے اختتام پر مختلف مروّجہ
زبانوں میں نعت رسولﷺ کے ترانے الاپنے والے اس فخر سے سرشار ہو کر گئے ہیں کہ
ہمارا ہی دور دورِ نعت تھا۔ ہم سے زیادہ نعت گوئی کی سعادت شاید ہی کسی اور کو ملی
ہو یا شاید ہی کسی اور کو مل سکے۔ ہر صدی ہجری نے رخصت ہوتے ہوئے اپنا اثاثۂ نعت
اس احساس کے ساتھ نئی صدی کو سونپا ہے کہ ہم نے توحسبِ توفیق خدا وندی زمانے بھر کو خوش بوئے نعت سے معطر رکھا ہے۔ اب
یہ مؤرخ کا کام ہے کہ وہ دیکھے کہ تم کیا کرتے ہو۔چوںکہ نعت گوئی محض اظہارِ فکر
و فن نہیں بلکہ عین عبادت اور حسنِ سعادت بھی ہے اور پھر ایسے عالم میں جب کہ خدا
اور فرشتے ثنائے مصطفویﷺ کو بصورتِ دُرودجاری رکھے ہوئے ہوں تو عشاقِ نبویﷺ کو یہ
احساس سرشاری عطا کرتا ہے کہ کیا دل آویز اور جاودانی جذبۂ مدحت ہے کہ ہم وہی
کچھ کررہے ہیں جو خدا اور ملائکہ کررہے ہیں اور پھر جو کچھ کررہے ہیں عین منشائے
ربانی ہے تو پھر روحانی کیفیات خود بخود معراج کو چھونے لگتی ہیں۔ لہٰذا ہمارے بعض
ناقدین کا بار بار اصرار ہے کہ موجودہ صدی ہی نعت کی صدی ہے قدرے تعجب انگیز ہے۔
اگر مقصد فقط یہی ہوکہ اس صدی میں بے شمار ثناگویانِ رسول عربیﷺ نعت کہہ رہے تو
گوارا ہے۔ اور اگر ماضی اور آنے والے دور سے مقابلہ ہو تو پھر سوال اُبھرتا ہے کہ
اگر یہی صدی نعت کی صدی ہے تو پھر ’’ورفعنا لک ذکرک‘‘ کا منشا و مقصدِ حقیقی کیا
ہے اور کیا آنے والی صدیوں کے نعت گو خاموش رہیں گے یا (خدا نہ کرے) توفیقِ
خداوندی اپنا انداز بدل دے گی۔ مجھے تو بہت سے معلوم زمانوں کے اثاثہ ہائے نعت کو
دیکھ کر ہر صدی ہی نعت کی صدی معلوم ہوتی ہے۔ ابھی بھی بہت کچھ نامعلوم کے پردوں
میں نہاں ہے۔ جب سب کچھ سامنے آجائے گا تو ماننا پڑے گا کہ تخلیقِ کائنات کے بعد
کوئی دور ایسا نہیں گزرا جو ثنائے مصطفیﷺ سے آباد نہ رہاہو۔ ہماری کوتاہ فکری جب
توفیق خداوندی سے تحقیق و جستجو کے حوالے سے وسعتوں سے ہم کنار ہونے لگتی ہے تو ہر
صدی کی خوش بوئے نعت قلوب و اذہان معتبر کرنے لگتی ہے۔
الصلوٰۃ والسلام کے ذکرِ کی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سربلندی کا اعلان فرما کر ہمارے
اذہان اور قلوب کو باور کرا دیا ہے کہ ہر دور دورِ نعت ہے پہلی صدی ہجری ہو یا
چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا ظہور ہو یہ صدی تذکارِ مصطفیﷺ سے آباد رہی
ہے۔ ہر دور اور ہر زمانہ رفعتِ مقاماتِ
مصطفویﷺ کا ایمان آفریں نظارا دیکھتا رہا ہے۔ ہر صدی کے اختتام پر مختلف مروّجہ
زبانوں میں نعت رسولﷺ کے ترانے الاپنے والے اس فخر سے سرشار ہو کر گئے ہیں کہ
ہمارا ہی دور دورِ نعت تھا۔ ہم سے زیادہ نعت گوئی کی سعادت شاید ہی کسی اور کو ملی
ہو یا شاید ہی کسی اور کو مل سکے۔ ہر صدی ہجری نے رخصت ہوتے ہوئے اپنا اثاثۂ نعت
اس احساس کے ساتھ نئی صدی کو سونپا ہے کہ ہم نے توحسبِ توفیق خدا وندی زمانے بھر کو خوش بوئے نعت سے معطر رکھا ہے۔ اب
یہ مؤرخ کا کام ہے کہ وہ دیکھے کہ تم کیا کرتے ہو۔چوںکہ نعت گوئی محض اظہارِ فکر
و فن نہیں بلکہ عین عبادت اور حسنِ سعادت بھی ہے اور پھر ایسے عالم میں جب کہ خدا
اور فرشتے ثنائے مصطفویﷺ کو بصورتِ دُرودجاری رکھے ہوئے ہوں تو عشاقِ نبویﷺ کو یہ
احساس سرشاری عطا کرتا ہے کہ کیا دل آویز اور جاودانی جذبۂ مدحت ہے کہ ہم وہی
کچھ کررہے ہیں جو خدا اور ملائکہ کررہے ہیں اور پھر جو کچھ کررہے ہیں عین منشائے
ربانی ہے تو پھر روحانی کیفیات خود بخود معراج کو چھونے لگتی ہیں۔ لہٰذا ہمارے بعض
ناقدین کا بار بار اصرار ہے کہ موجودہ صدی ہی نعت کی صدی ہے قدرے تعجب انگیز ہے۔
اگر مقصد فقط یہی ہوکہ اس صدی میں بے شمار ثناگویانِ رسول عربیﷺ نعت کہہ رہے تو
گوارا ہے۔ اور اگر ماضی اور آنے والے دور سے مقابلہ ہو تو پھر سوال اُبھرتا ہے کہ
اگر یہی صدی نعت کی صدی ہے تو پھر ’’ورفعنا لک ذکرک‘‘ کا منشا و مقصدِ حقیقی کیا
ہے اور کیا آنے والی صدیوں کے نعت گو خاموش رہیں گے یا (خدا نہ کرے) توفیقِ
خداوندی اپنا انداز بدل دے گی۔ مجھے تو بہت سے معلوم زمانوں کے اثاثہ ہائے نعت کو
دیکھ کر ہر صدی ہی نعت کی صدی معلوم ہوتی ہے۔ ابھی بھی بہت کچھ نامعلوم کے پردوں
میں نہاں ہے۔ جب سب کچھ سامنے آجائے گا تو ماننا پڑے گا کہ تخلیقِ کائنات کے بعد
کوئی دور ایسا نہیں گزرا جو ثنائے مصطفیﷺ سے آباد نہ رہاہو۔ ہماری کوتاہ فکری جب
توفیق خداوندی سے تحقیق و جستجو کے حوالے سے وسعتوں سے ہم کنار ہونے لگتی ہے تو ہر
صدی کی خوش بوئے نعت قلوب و اذہان معتبر کرنے لگتی ہے۔
’’ورفعنالک ذکرک‘‘ کا آوازئہ
قدسی بذاتِ خود اس حقیقت کا اعلان ہے کہ ذکرِ رسولﷺ کبھی
جمودکاشکارنہیںہوگا۔بلکہ’’وللاخرۃ خیرلک من الاولٰی‘‘ کا پیغام اس حقیقتِ ابدی کا
واضح ترین اعلان ہے کہ ہر آنے والا دور سرکارِ دو عالمﷺ کے ذکرِ جمیل کے حوالے سے
گزشتہ دور سے سربلند ہوگا۔ خدائے کریم نے اپنے محبوب کے تذکارِ جمیل کی سربلندی کا
ذمہ لے رکھا ہے۔
قدسی بذاتِ خود اس حقیقت کا اعلان ہے کہ ذکرِ رسولﷺ کبھی
جمودکاشکارنہیںہوگا۔بلکہ’’وللاخرۃ خیرلک من الاولٰی‘‘ کا پیغام اس حقیقتِ ابدی کا
واضح ترین اعلان ہے کہ ہر آنے والا دور سرکارِ دو عالمﷺ کے ذکرِ جمیل کے حوالے سے
گزشتہ دور سے سربلند ہوگا۔ خدائے کریم نے اپنے محبوب کے تذکارِ جمیل کی سربلندی کا
ذمہ لے رکھا ہے۔
حضرت ابو سعید خدری رضی
اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
حضرت جبریل علیہ السلام میرے
پاس آئے اور کہا آپ کا ربّ کریم پوچھتا ہے کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے آپ
کے ذکر کو کیسے سر بلند کیا؟ میں نے جواب دیا اس بات کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا
ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ کے رفعِ ذکر کی کیفیت یہ ہے کہ جہاں میرا ذکر کیا
جائے گاوہاں آپ کا ذکر بھی میرے ساتھ کیا جائے گا۔
پاس آئے اور کہا آپ کا ربّ کریم پوچھتا ہے کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے آپ
کے ذکر کو کیسے سر بلند کیا؟ میں نے جواب دیا اس بات کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا
ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ کے رفعِ ذکر کی کیفیت یہ ہے کہ جہاں میرا ذکر کیا
جائے گاوہاں آپ کا ذکر بھی میرے ساتھ کیا جائے گا۔
علامہ آلوسی رحمۃ اللہ
علیہ نے اس حدیث مبارکہ کی بڑی عمدہ انداز سے تشریح کی ہے کہ ربّ کریم آپ کے ذکر
کو بڑھاتا چلا جائے گا۔ جوں جوں انسانی ادراک اپنی بلندیوں کو چھوئے گا توں توں
ذکرِ مصطفیﷺ کی تجلیات بڑھتی چلی جائیں گی اور یہ سلسلہ آپ کے مقامِ محمود پر
فائز ہونے تک مسلسل جاری رہے گا۔ تو پھر ہم اپنے مقدر پر رشک کرنے کے لیے تو ثنائے
حضورﷺ کو وسیلہ بنا کر بہت کچھ کہہ سکتے ہیں۔ مگر موجودہ صدی ہی کو نمائندہ ترین
قرار دینا نہ تو ماضی کے ساتھ انصاف ہے اور نہ مستقبل کے ساتھ۔عہدحاضر کا یہ بہت
بڑا اعزاز ہے کہ نعتیہ مجموعے بڑی کثرت سے اشاعت پزیر ہوئے۔ صرف پچّیس سالوں میں
ہی سلسلہ کہیں سے کہیں پہنچ گیا۔ پچّیس سال کا ذکر میں نے اس لیے کیا کہ ربع صدی
قبل شائع شدہ نعتیہ کتب کو آسانی سے گنا جاسکتا تھا اور راقم نے اپنے کئی مضامین
میں تذکرہ بھی کیا۔ مگر نعت رسولﷺ کی اشاعت کا سلسلہ اس شان سے شروع ہوا کہ چند ہی
برسوں میں کہیں سے کہیں پہنچ گیا۔ اب تو نعتیہ کتب کی گنتی ہی محال نظر آتی ہے۔
ابھی شائع شدہ نعتیہ کتب کے شمار کا سلسلہ انجام تک نہیں پہنچتا کہ نئی کتب کی ایک
بڑی تعداد دامانِ دل کو اپنی طرف کھینچ رہی ہوتی ہے مگرمعیار گرتاجارہاہے۔
علیہ نے اس حدیث مبارکہ کی بڑی عمدہ انداز سے تشریح کی ہے کہ ربّ کریم آپ کے ذکر
کو بڑھاتا چلا جائے گا۔ جوں جوں انسانی ادراک اپنی بلندیوں کو چھوئے گا توں توں
ذکرِ مصطفیﷺ کی تجلیات بڑھتی چلی جائیں گی اور یہ سلسلہ آپ کے مقامِ محمود پر
فائز ہونے تک مسلسل جاری رہے گا۔ تو پھر ہم اپنے مقدر پر رشک کرنے کے لیے تو ثنائے
حضورﷺ کو وسیلہ بنا کر بہت کچھ کہہ سکتے ہیں۔ مگر موجودہ صدی ہی کو نمائندہ ترین
قرار دینا نہ تو ماضی کے ساتھ انصاف ہے اور نہ مستقبل کے ساتھ۔عہدحاضر کا یہ بہت
بڑا اعزاز ہے کہ نعتیہ مجموعے بڑی کثرت سے اشاعت پزیر ہوئے۔ صرف پچّیس سالوں میں
ہی سلسلہ کہیں سے کہیں پہنچ گیا۔ پچّیس سال کا ذکر میں نے اس لیے کیا کہ ربع صدی
قبل شائع شدہ نعتیہ کتب کو آسانی سے گنا جاسکتا تھا اور راقم نے اپنے کئی مضامین
میں تذکرہ بھی کیا۔ مگر نعت رسولﷺ کی اشاعت کا سلسلہ اس شان سے شروع ہوا کہ چند ہی
برسوں میں کہیں سے کہیں پہنچ گیا۔ اب تو نعتیہ کتب کی گنتی ہی محال نظر آتی ہے۔
ابھی شائع شدہ نعتیہ کتب کے شمار کا سلسلہ انجام تک نہیں پہنچتا کہ نئی کتب کی ایک
بڑی تعداد دامانِ دل کو اپنی طرف کھینچ رہی ہوتی ہے مگرمعیار گرتاجارہاہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ
ہم تنقیدِ نعت کی طرف توجہ دیںاور قرآن وحدیث کی ضیائے تاباں میںاپنے سفرِافکار
کو منزلِ رضائے خداومصطفی ﷺ کی جانب رواں
دواں رکھیں۔اور نام ونمود سے گریزکریں،۔
ہم تنقیدِ نعت کی طرف توجہ دیںاور قرآن وحدیث کی ضیائے تاباں میںاپنے سفرِافکار
کو منزلِ رضائے خداومصطفی ﷺ کی جانب رواں
دواں رکھیں۔اور نام ونمود سے گریزکریں،۔
(ماخوذ)
نعت اورتنقیدنعت
Reviewed by WafaSoft
on
July 27, 2019
Rating:


No comments: