Best Wall Stickers

اَزہارِ مدینہ۔۔۔۔۔۔پرایک نظر


اَزہارِ   مدینہ۔۔۔۔۔۔پرایک نظر



محمد
یحییٰ انصاری اشرفی
 


اَنصار
مدینہ کو رب تبارک وتعالیٰ نے سب سے پہلے اپنے حبیب ﷺ کے استقبال پر  باجماعت‘ بحالتِ قیام اور بآواز بلند اَزہار
مدینہ نچھاور کرنے کا شرف عطا فرمایا۔
اَنصار مدینہ کی یہی اوّلین نعت گو نوخیز کلیاں تھیں جو اپنے مکان کی چھت
سے جَشن  آمدِ مصطفی ﷺمناتے ہوئے یہ اشعار
گنگنارہی تھیں
  :

طلع
البدر علینا            من ثنیات الوداع

وجب
الشکر علینا        ما دعا للہ داع

رسول
اللہ ﷺ کی تعریف کو نعت شریف کہا جاتا ہے۔
حضور  ﷺ کی تعریف صرف مخلوق یعنی
کائنات جنّ وانس اور ملائکہ مقربین ہی نہیں کرتے بلکہ خود اللہ تعالیٰ بھی ہمہ وقت
آپ کی تعریف فرماتا ہے یہی وجہ ہے کہ سارا قرآن ہی آپ کی حمد اور بے پایاں تعریف
وتوصیف سے معمور ہے۔  محمد کے معانی ہیں بے
عیب اور ہر طرح لائق حمد۔  ہر طرح تعریف
کئے ہوئے‘ ہر وقت ہر زمانہ ہر زبان میں ثناء کئے ہوئے‘ خواہ یہ تعریف کسی ظاہری
خوبی کی وجہ سے کی جائے یا کسی باطنی وصف کی بناء پر کی جائے۔   محمد کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ ذات جس کی بصورت
استمرار ہر لمحہ ہر گھڑی نو بنو تعریف وثناء کی جاتی ہو۔

غرض
ہر نبی ورسول اُن کی مدح ثناء کا خطیب‘ اُن کی عظمت کا نقیب رہا‘  ہر پیغمبر اُن کی اُلفت ومحبت سے خوش نصیب رہا
۔۔۔ کوئی کچھ نہیں جانتا اور کچھ نہیں بتا سکتا کہ وہ کِھلتا اور ہنستا ہوا پُھول
کتنا عجیب رنگ اور کیسی انوکھی خوشبو رکھتا ہے کہ چمن رسالت کا ہر ہر پرند اُس کی
آرزو اور تمنا میں چہچہارہا ہے اور اُس کی اُلفت ومحبت کا دم بَھر رہا ہے۔

حضور
نبی کریم  ﷺ کی شانِ بے مثالی کا کیا کہنا‘
ایک مرتبہ حضرت جبرئیل امین علیہ السلام ‘ سلطان کونین کے دربار پُر عظمت میں حاضر
ہوئے تو حضور ﷺ نے دریافت فرمایا کہ اے جبرئیل!
آپ نے تو پوری دُنیا کی سیر کی‘ تمام پیغمبروں کا دربار دیکھا‘ ہر نبی
ورسول کے جمال کا دیدار کیا‘ بڑے بڑے سلاطین حُسن وجمال کی شانِ جمال دیکھی‘ یہ تو
بتائیے کہ میرا مثل ومثال بھی کہیں آپ کی نظروں سے کبھی گزرا؟  اس وقت حضرت جبرئیل امین علیہ السلام نے عرض
کیا کہ یارسول اللہ!  میں نے طبقات زمین کو
اُلٹ پلٹ کر دیکھا‘ مشرق ومغرب کا کونہ کونہ اور شمال وجنوب کا گوشہ گوشہ دیکھا‘
بڑے بڑے حُسن وجمال والوں کی شان جمالی کے جلوے دیکھے مگر حضور آپ کے مرتبہ کا
نہیں پایا۔

صحابی
رسول حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی مضمون کو کتنے انوکھے اور دلکش
انداز میں نظم فرمایا ہے وہ ارشاد فرماتے ہیں
:

وَاَجْمَلُ
مِنْکَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَیْنِیْ
وَاَکْمَلُ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَائِ

خُلِقْتَ
مُبَ
ــرِّئً
مِّ
ـنْ
کُلِّ عَیْبٍ         کَاَنَّکَ قَدْ
خُلِقْتَ کَمَا تَشَاء

یعنی
اے حُسن وجمال کے تاجدار‘ احمد مختار‘ آپ سے بڑھ کر کوئی حُسن وجمال والا میری
آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا‘ آپ سے بڑا صاحبِ کمال تمام جہاں کی عورتوں کی آغوش
میں کبھی کوئی نہیں پیدا ہوا۔  خالقِ حُسن
وجمال نے آپ کو ہر عیب سے بَری اور پاک پیدا فرمایا ہے گویا آپ جس طرح چاہتے تھے
خلاّق عالم نے آپ کی تخلیق فرمائی۔

درحقیقت
بڑے بڑے بادشاہانِ زبان وقلم بھی آپ کی شانِ جمالی وبے مثالی کی منظر کشی نہیں کرسکے۔  حضرت بلبلِ شیراز سعدی علیہ الرحمہ نے میدانِ
نعت میں طبع آزمائی کی تو یہ کہہ کے خاموش ہوگئے

یَا
صَاحبَ الجَمَالِ وَیَا سَیِّدَ الْبَشَرْ
مِنْ وَّجْہِک َ الْمُنِیرِ لَقَ
ــــدْ  نُوِّر َ الْقَمَرْ

لَایُمْکِنُ
الثَّن
ـــَائُ
کَم
ـــَا
کَانَ حَقَّ
ـــہ‘     بعد از خُدا بزرگ توئی قصہ مختصر

یعنی
اے حُسن وجمال کے مالک‘ اور اے نوعِ انسانی کے سردار!  آپ کے روئے مُنیر سے چاند بھی نور کی بھیک
مانگتا ہے اور بلاشبہہ چاند کو بھی آپ ہی کے نور سے روشنی ملی ہے ورنہ چاند کی
حقیقت ہی کیا ہے؟  اور نورِ جمال محمدی سے
چاند کو کیا نسبت؟

چاند
سے تشبیہ دینا یہ بھی کیا انصاف ہے

لاَ
یُمْکِ
ـــــــنُ
الثَّن
ـــَائُ
کَم
ـــَا
کَانَ حَقَّ
ـــہ


چاند
میں تو داغ ہیں اور اُن کا چہرہ صاف ہے

بعد
از خُدا بزرگ توئی قصہ مختصر

یعنی
آپ کی مدح وثنا کما حقہ‘ تو ممکن ہی نہیں ہے۔
بس مختصر بات یہ ہے کہ خُدا کے بعد سب سے زیادہ عزت وعظمت والے‘ بزرگی اور
تقدس والے‘ اعزاز واکرام والے‘ یارسول اللہ
ﷺ آپ ہی ہیں۔

حضرت
بوصیری رحمۃ اللہ علیہ نے قصیدہ بردہ شریف میں فرمایا
:

دع
ما ادعت
ـہ
النص
ـاریٰ
فی نبیہ
ـــم

والحکم
بما شئت مدحاً فیہ واحتکم

یعنی
اے مسلمان !  تو اپنے نبی کے بارے میں وہ
بات تو مت کہنا جو نصاریٰ نے اپنے نبی کے بارے میں کہی۔   باقی اس کے سوا تو اپنے نبی کی مدح وثناء میں
جو کچھ بھی چاہے کہہ ڈال  اور نہایت عزم
اور یقین کامل کے ساتھ کہتا چلا جا۔  مطلب
یہ ہے کہ نصاریٰ نے اپنے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خُدا یا خُدا کا بیٹا
کہا۔  مسلمان کے لئے ہرگز ہرگز یہ جائز
نہیں ہے کہ وہ اپنے نبی کو خُدا یا خُدا کا بیٹا کہے‘ لیکن اس کے سوا بڑی سے بڑی
تعریف وتوصیف اور اونچی سے اونچی مدح وثناء جو کچھ کرسکتا ہے وہ سب کچھ اپنے
نبی  ﷺ کی شان میں بے دھڑک کرسکتا ہے۔  انھیں خلیفۃ اللہ الاعظم کہو‘ مالکِ رقاب
الاُمم کہو‘ ساقی کوثر‘ شافع محشر‘ مالک کونین‘ سلطانِ دارین‘ قاسم نعمت جنت‘ جو
کچھ بھی کہا جائے سب جائز ودرست ہے۔  بلکہ
اُن کے درجات رفیعہ ومراتب جلیلہ کے لحاظ سے یہ سب کچھ کم ہی ہے۔

درحقیقت
سچی بات تو یہ ہے کہ حضور نبی کریم  ﷺ کی
مدح وثنا کسی بشر سے کماحقہ‘ ممکن ہی نہیں ہے اور یہ حق الیقین رکھیے کہ رحمۃ
للعالمین کی مدح وثنا سوائے رب العالمین کے کوئی کر ہی نہیں سکتا۔  بڑے بڑے عارفین وبزرگانِ دین نے نعت میں سخن
گستری اور طبع آزمائی کی لیکن اپنے عجز وقصور کا اعتراف کرتے ہوئے قلم رکھ دیا
اور دم بخود ہوگئے۔  سلطنت شاعری کے مسلم
الثبوت بادشاہ حضرت جامی علیہ الرحمہ جو عشقِ رسول کی ایسی بلند منزل پر ہیں کہ اس
منزلِ رفیع کا نظّارہ کرنے میں بڑے بڑے صاحبانِ رفعت کے سروں سے ٹوپیاں گر پڑتی
ہیں۔  بارگاہِ رسول کی پُر عظمت جناب میں
مدح وثنا کا ہدیہ پیش کرنے کے لئے ہمت کی تو اتنا کہہ کر خاموش ہوگئے کہ

ہزار
بار بشویم دہن زمشک وگلاب     ہنوز نام تو
گفتن کمال بے ادبی است

یعنی
میں اگر ہزاروں مرتبہ مشک وگلاب سے کُلّیاں کر کے اپنا مُنھ صاف کرلوں پھر بھی
میرا یہ مُنھ اس قابل نہیں ہوسکتا کہ تعریف تو کُجا؟  میں ایک مرتبہ حضور  ﷺ کا
نام مبارک بھی اپنی زبان پر لاسکوں۔
اسی طرح ایک دوسرے عاشقِ رسول نے کتنے والہانہ انداز میں عرض کیا ہے کہ
  :

مَا
اِنْ مَدَحْتُ مُحَمَّدًا بِمَقَالَتِیْ
لٰکِن ْ مَدَحْتُ  مَقَالَتِی ْ
بِمُحَمَّدٍ

یعنی
میں نے بہت کچھ حضور  ﷺ کی مدح سرائی اور
تعریف وتوصیف میں لکھا اور کہا‘ لیکن میرا یہ اعتقاد ویقین ہے کہ میں نے اپنے ان
کلمات سے حضور  ﷺ کی ذرّہ برابر بھی نہ مدح
کی ہے نہ کرسکتا ہوں بلکہ میرا مقصد تو صرف یہ ہے کہ حضور  ﷺ کا نامِ نامی واسم گرامی لے لے کر میں اپنے
کلام کو اس قابل بنا لوں کہ وہ لائقِ تعریف وتحسین بن جائے۔  مظہر امام اعظم اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی فرماتے
ہیں
:

اے
رضاؔ خود صاحبِ قرآں ہے مدّاح حضور

تجھ
سے کب ممکن ہے پھر مدحت رسول اللہ کی

برادرِ
طریقت محبی وعزیزی سید محمد محی الدین شاہ قیسؔ اشرفی سلمہ قابلِ مبارک باد ہیں
جنہوں نے ازہار مدینہ کی شکل میں نعتیہ کلام کا حسین گلدستہ سجایا ہے۔  نعتیہ شاعری صرف زبان کا ذائقہ ہی نہیں بلکہ
رُوح کی غذا بھی ہے ۔ جسم مثل آئینہ ہے جس میں رُوحانی جلوے دِکھائی دیتے ہیں۔  رُوحانی غذا سے ہی رُوحانیت کا ارتقاء ہوتا
ہے۔   اعمال سے زیادہ صحبت اثر کرتی ہے
کیونکہ یہی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔  شیخ کی
صحبت اور محبت سے ہی رُوحانی وَباطنی فیوض حاصل ہوتے ہیں۔  دِل کا آئینہ مُرشد کی صحبت سے جِلا پاتا ہے
اور نااہلوں کی صحبت سے سیاہ ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فیض ہم پر اُس وقت تک نہ ہوگا جب تک ہمارے دِل میں عشقِ
رسول ﷺ اور محبتِ شیخ پیدا نہ ہو …المختصر… سید محمد محی الدین شاہ قیسؔ اشرفی کی
شاعری حضور شیخ الاسلام سلطان المشائخ رئیس المحققین سید المفسرین علامہ سید محمد
مدنی اشرفی جیلانی سے سچی عقیدت وَمحبت‘ اٹوٹ وابستگی کا ثمرہ اور فیضانِ بیعت وَ
صحبت ہے جس کا اظہار بغرضِ تحدیث نعمت قیسؔ نے اپنے کلام میں کیا ہے ‘ واضح رہے کہ
یہ نجد کا قیس (مجنون) نہیں جو عورت (لیلیٰ) کی نفسانی محبت میں نجد کی گم راہ
وَادیوں اور ریگستان میں بھٹکتا پھرا … یہ مدنی قیسؔ ہے جو محافل کو  اَزہارِ مدینہ سے مہکاتا ہے
  :


شیخ
مدنی کا ہوں میں دیوانہ‘ شیخ اعظم ہے میرا نگینہ


اپنی
پلکوں کو نیچے جھکا کر‘ تو سلام میرا رو رو کے کہنا


حقیقت
میں تجھ کو وَلی دیکھتے ہیں

یہ
ہم کیا جہاں میں سبھی دیکھتے ہیں

نہ
بھایا کوئی بھی نگاہوں کو میری

یہ
ہے تیرا گلشن سہانہ سہانہ

ہم
عاصی گنہ گار بندوں کی خاطر  تیرا کیا ہے
رُتبہ نہ جانا کسی نے

جہاں
بھر میں دَرد والم قیسؔ دیکھے


ترے
دَر پہ جھولی بھری دیکھتے ہیں

کہ
تجھ میں وہ بوئے علی دیکھتے ہیں

تجھے
ایسا یارِ نبی دیکھتے ہیں

مسرت
سے کھلتی کلی دیکھتے ہیں

نگاہوں
میں تیرے نمی دیکھتے ہیں

فقط
تیری شوکت بڑی دیکھتے ہیں

فقط
یار کے دَر خوشی دیکھتے ہیں


جب
سے نگاہِ یار پڑی مجھ حقیر پر

شیخ
کی صحبتیں جب سے ہم کو ملیں


یہ
قیسؔ تب سے حق کا طلب گار ہوگیا

فیض
سرکار کا اُن سے پانے لگے


مرے
شیخ تجھ پر میں کیا کیا لٹاؤں

نہیں
قیسؔ کا کچھ ‘ جو ہے وہ ترا ہے

دُعا
ہے خدا سے نہ ہو دُور ہم سے


مرے
دِل کا اب یہ چمن بھی ہے تیرا

یہ
جسم بھی جاں بھی یہ من بھی تیرا ہے

وہ
پیر مُغاں میرا یار اللہ اللہ


مرے
ہاتھوں سے مولیٰ جام یہ گرنے نہیں دینا


مرے
مشرب سے مجھ کو جام بھربھر کے پلا یارب


مری
خواہش نہیں کہ قیسؔ وہ آئین مل جائے

شراب
ساقئی بے خود سے بس تسکین مل جائے


نہ
کوئی خوبرو زلفی  مہہ وپروین مل جائے

لئے
ہاتھوں میں جامِ وصل محی الدین مل جائے

دُعا
ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ازہارِ مدینہ سے ہمارے قلوب‘ہمارے اذہان‘ ہماری محافل
اور ہماری زندگیوں کو مہکا دے اور یہ مہک ہماری نسلوں میں بھی باقی رکھے۔آمین بجاہ
سیدالمرسلین

 

اَزہارِ مدینہ۔۔۔۔۔۔پرایک نظر اَزہارِ مدینہ۔۔۔۔۔۔پرایک نظر Reviewed by WafaSoft on July 28, 2019 Rating: 5

No comments:

Comments

Powered by Blogger.