صحرائے غزل سے گلزارِ حمدونعت تک
فاروق ارگلی نئی دہلی
محسن انسانیت رحمت عالم سرورکائنات محمدمصطفیٰ ﷺکی تعریف وتوصیف میں جوشاعری کی جائے اس کے لیے لفظ نعت مختص ہے۔اردوکے شعری ادب کی پوری تاریخ پرنظر ڈالیں توشایدہی کوئی ایسابدنصیب شاعرہوگا جس نے نعت نہ کہی ہو۔جہاںتک مسلمان شعراء کاتعلق ہے،عشق رسول ان کے ایمان کاحصہ ہے۔اللہ تعالیٰ کی حمدوثنااور اپنے پیغمبر کی مدح میں نعت کہنا۔پڑھنا،نعت شریف کی محافل سجانامومنین کے لیے باعث فلاح دارین ہے۔نعت وہ صنف سخن ہے جو عربی اور فارسی سے لے کر اردو تک ہر دور میں مقدس اور محترم رہی ہے۔مسلمان شعراء کے لیے نعت کی اہمیت اور عظمت یہ ہے کہ تمام ہی شعراء اپنے مجموعہ ہائے کلام کاآغاز حمدباری تعالیٰ اور نعت رسول ﷺسے کرتے آئے ہیں۔نعت گوئی ،مسلم شعراء کے نعتیہ کلام کا بہت بڑاذخیرہ موجود ہے جس میں انہوں نے پیغمبر انسانیت سے محبت و عقیدت کے چراغ روشن کیے ہیں۔دراصل حضورﷺ کی آفاقی انسانی تعلیمات اور آپ کے اوصافِ حمیدہ نے مسلم وغیر مسلم سب کو متاثر کیاہے۔غیرمسلموں کی نظرمیں بھی آپ کی عظیم ترین شخصیت ایک مہاپرش کی ہے۔جس کی مہانتا کی کوئی حدنہیں چنانچہ غیرمسلم شعرا کی تعداد اتنی بڑی ہے کہ اگر ایک ایک نعت بھی سب کی جمع کریں تو کئی جلدیں بھرجائیں۔کچھ ہندو شعرا نے نعت گوئی کوہی اپنی شاعری کا مرکزومحور بنالیا تھا۔بہت سے غیر مسلم شعرا کے نعتیہ مجموعے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔اردو کے برگزیدہ نعت گو شاعر دلو رام کوثڑی حصاری نے توزندگی بھر نعتیہ شاعری ہی کی ہے۔
لکھیں عمر بھر کوثری ہم نے نعتیں
نہ کچھ اورغم زندگانی میں رکھا
کچھ عشق پیمبر میں ہیں شرط مسلماں
ہیں کوثری ہندو بھی طلب گار محمد ﷺ
مہاراجہ سرکشن پرشاد وزیر اعظم سلطنت نظام حیدرآباد نہایت خوش فکر شاعرتھے۔ان کا نعتیہ کلام بھی شاہکار تصور کیاجاتاہے۔کہتے ہیں؛
ہیں پھول اسی باغ کے سب کافرومومن
یہ گلشن ِ ایجاد ہے گلزار محمدﷺ
رگھوپتی سہائے فراق ؔ گھورکھپوری نے اپنی مشہورنعتیہ رباعی میں کہا؛
انوار بے شمار محدود نہیں
رحمت کی شاہ راہ مسدود نہیں
معلوم ہے کچھ تم کومحمدکا مقام
وہ امتِ اسلام میں محدود نہیں
یہی بات کنور مہندرسنگھ بیدی سحر نے بیحدمؤثر پیرائے میں کہی ہے؛
عشق ہوجائے کسی سے کوئی اچارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمد پہ اجارہ تونہیں
اور جگناتھ آزاد کا محسن انسانیت سرورعالم کی بارگاہ میں پیش کیاگیایہ نذرانۂ سلام نعتیہ شاعری کا شاندار نمونہ قرار دیاجاتاہے۔
سلام اس ذات ِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
ہزاروں جس کے احسانات ہیںدنیائے امکاں پر
بڑے چھوٹے میں جس نے اک اخوت کی بناڈالی
زمانے سے تمیزِ بندہ وآقامٹاڈالی
اردوشاعری کے اولین ادوار میں دکنی کلاسیکی شعریات ،میروغالب کے عہداوراس کے بعد سے اب تک دوسری اصناف سخن کے ساتھ نعتیہ شاعری کی جلوہ نمائیاں قائم رہی ہیںلیکن ان شعرا میں سب سے بڑانام ہے اعلیٰ حضرت امام احمد رضاؔ خاں فاضل بریلوی کا حدئق بخشش کے عنوان سے ان کا دیوان نعت رسولﷺ کے حوالے سے اردوہی نہیں عربی وفارسیی کی نعتیہ شاعری میں بھی اپنی مثال آپ ہے۔مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام آج بھی پوری دنائے اردو میں گونج رہاہے۔اردوشعری تاریخ میں غالب،ذوق ،مومن اورسوسرے معاصرین ،غلام امام شہید،الطاف حسین حالی اوران کے بعد منیرشکوہ آبادی،محسن کاکوروی اور پھرعلامہ اقبال ،حفیظ جالندھری،بہزادلکھنوی،ماہرالقادری،ضیاء القادری،زائرحرم حمید صدیقی سے لے کربیکل اتساہی اور مظفروارثی تک نامور نعت گو شعرا کی ایک طویل فہرست ہے۔آج بر صغیرہندوپاک اوراردوکی نئی عالمی بستیوںمیںسینکڑوں شعرا ،وجود ہیںجو نعت شریف میں بھی طبع آزمائی کررہے ہیں،لیکن ایسے شاعر بہت کم ہیں جنہوں نے قادرالکلام شاعرہوتے ہوئے بھی اپنی تمام تر تخلیقی توانائیاں صرف حمدباری تعالیٰ اور نعت رسولﷺ کے لیے وقف کردی ہوں۔اس میدان میں یوںتو چارچھ اہم شعراء کے نام سامنے آتے ہیںلیکن صرف دوایسے اصحاب نظر آتے ہیں جنہوں نے باکمال شاعرہوتے ہوئے بھی اپنی دنیوی شاعری کی مقبولیت سے کنارہ کرکے اپنی فکری صلاحیتیںحمدونعت کیلیے وقف کردی ہیں۔اورموجودہ عہد کے سب سے بڑے ،سب سے محترم اورمقتدر شعراء میںاپنامقام بنالیاہے۔یہ دواہم صحاب ہیںپاکستان
کے حضرت مظفروارثی اور ہندوستان کے جناب ابرار کرتپوری۔ آج ابرار صاحب کی نعتیہ شاعری سرزمین ہند میںچاروںطرف عشق رسولﷺ کے اجالے پھیلارہی ہے۔ہندوستان میںحمدونعت کے وہ بلاشبہ بڑے شاعروںمیںشمارہوتے ہیں۔یہاںتک کہ ان کے لیے اکثرلوگ حسان الہند کالقب استعمال لگے ہیں۔لیکن یہ سعادت،یہ شاعران عظمت انہیںیوںہی نہیںملی،بقول ابوالفیض سحر مرحوم فنی مہارت کے ساتھ (شاعرکو)عروض اورلغت پرخواہ کتناہی عبور کیوںنہ ہو،آہنگ واسلوب میںبھی کتنی ہی جدت کیوںنہ ہو،نعت گوئی کاحق اداکرناسینے میں سچے عشق رسولﷺکے ٹھاٹیں مارتے سمندرکے بغیر ممکن نہیں ہے،خوشی کی بات ہے کہ ابرار کرتپوری اس معیارپرپورے اترتے ہیں۔انہیںفن پر بھی عبور ہے اوران کے سینے میں سچے عشق رسولﷺ اور حب مصطفوی کی شمع فروزاں ہے (پیش لفظ مدحت)
راقم الحروف کا ایقان ہے کہ توفیق وتائید خداوندی کے بغیر حمدونعت کی تخلیق ممک نہیں یہ سعادت اسی کو حاصل ہوتی ہے جس پر رحت خاص کی نظر ہوتی ہے۔میری ناچیزرائے میں ابرار صاحب کوشاعرانہ قدرومنزلت اورعوامی مقبولیت اس لیے حاصل ہوئی کہ ان کی یہ دعابارگاہِ ایزدی میں مستجاب ہوئی۔
توصیف محمدﷺکی سخیل کوکسک دے
یارب مرے الفاظ کو پھولوںکی مہک دے
شعورِنعت کامجھ کو کمال دے یارب
مری صداؤں کوحسنِ بلال دے یارب
اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کی محبت میںسرشار ابرارکرتپوری کو واقعی شعورِنعت کے کمال اور ان کی آواز کوحسنِ بلال سے نوازدیاہے،آج وہ پی ایچ ڈیوںاوردرسی تدریسی نقادوں کے متعین کردہ معیارات سے قطع نظراردو کے معتبرومستندشعراء کی صف میںنمایاںہیں۔ان کے نعتیہ شعری مجموعے ،ورفعنالک ذکرک،مدحت،حرف حرف ثنا،بعدازخدا،شہرعلم اورحمدیہ کلام کے مجموعے،خالق ذوالجلال،قسام ازل اورِحمدکہوںتوہواجیارا انہیں اسلامی ادبیات کی تاریخ میں دوام کے بخشنے کے لیے کافی ہیں۔چونکہ یہ مادی ترقیات اور مذہب ،روحانیت اور اخلاقی قدروںسے انسان کی محرومی کازمانہ ہے اس لیے علم وادب کے میدان میں بھی ان اقدارپرسنجیدگی سے سوچنے کی فرصت ارباب دانش کے نہیںرہی ہے۔لیکن ایک وقت ایساضرور آئے گا جب یہ سمجھاجاسکے گا کہ ابرار کرتپوری نے اپنی معجزبیانی سے نہ صرف لاکھوں دلوںمیں اللہ ورسول کی محبت کے چراغ روشن کیے بلکہ اردوزبان وادب کی بھی لازوال خدمت کی ہے۔ابرارکرتپوری پانچ ہزارابیات پر مشتمل مثنوی '' غزوات''میںحضوراکرم ﷺ کے تمام غزوات کی تاریخ بیان کرکے موجودہ دورکے ان قادرالکلام شعراء کی فہرست میں اپنانام درج کراچکے ہیںجن میںسب سء بڑا نام ابوالاثرحفیظ جالندھری،مصنف شاہنامہ اسلام کا ہے۔جس کی اساس پرقدماء دکن سے لے کرمیر حسن ،دیاشنکرنسیم اورنواب مرزاشوقؔ جیسے لافانی شعراء کی شہرتوںکے مینارقائم ہیں۔ابرارکرتپوری کی قادرالکلامی کانہایت اعلیٰ نمونہ ان کا نعتیہ مجموعہ مدحت بھی ہے۔اس پاکیزہ مرقعِ نعت کی خوبی یہ ہے کہ حضوراکرمﷺکے اسم گرامی کے اعدادابجدکے حساب سے بیانوے (۹۲)نعتیں غالب کی زمینوں پرکہی گئی ہیںجوبجائے خودشاعر کی لسانی ،عروضی اور فنی مہارت کی شاندار دلیل ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی ان نعتوںمیںاپنے ممدوح سرکار مدینہ ﷺ کی ذات والا صفات کے تیئںعقیدت اور والہانہ محبت کا ٹھاٹھیںمارتاہواسمندر اس طرح موجزن ہے کہ آوردیاتصنع کا شائبہ بھی محسوس نہیںہوتا،غالب کی مشہور غزلوںکی زمینوں پرڈھلے ڈھلائے اشعار ان کے دل کی گہرائیوںسے بے ساختہ برآمدہوئے ہیں
احمدسا کسی شخص کاکردار نہیںہے
پاگیزگی اطوار کی ایسی ہے کہاں اور
کیاذکرمومنوںکاہو،کافر نہ رہ سکے
ان کو امین وصادق واطہر کہے بغیر
سیرتِ اقدس کادل سے تذکرہ جب بھی ہوا
وہ مبارک ساعتیںجانِ بہاراںہوگئیں
حالِ دل ان کو سناؤنتو سنائے نہ بنے
شاہِ طیبہ سے چھپاؤںتوچھپائے نہ بنے
شربڑھا جب بھی بشرکاابرار
پھروہی فخرِ بشریادآیا
دل میں عقیدتوںکاچراغاں کیے ہوئے
ہم ہیں خیالِ فخرِ رسولاں کیے ہوئے
قاضی ابرارحسین ابرار کرتپوری،۱۴ جنوری ۱۹۳۹کوقصبہ کرتپور(ضلع بجنور)کے ایک معززخاندان میںپیداہوئے۔اس خانوادے کے اسلاف سلاطین مغلیہ کے زمانے میں قضاۃ وانصاف کے اعلیٰ مناصب پرفائزہوتے رہے،اس لیے قاضی خاندان کے نام سے مشہورہوا۔ابرارکے والدقاضی ریاست حسین محکمہ پولیس میںملازم تھے۔تربیت روایتی مسلم بچوںکی طرح ہوئی۔۱۹۵۳ میںانہوںنے مسلم انٹرکالج کرتپورسے ہائی اسکول پاس کیا۔۱۹۶۷میںان کے والدکے انتقال ہوگیا،توتعلیمی سلسلہ جاری نہ رہ سکا۔۱۹۶۱میں وہ تلاش معاش میںدہلی آئے،یہاںان کے چچاقاضی سجادحسین کی مددسے انہیںدیال سنگھ کالج میںملازمت مل گئی ۔یہ ملازمت غیرتدریسی شعبہ میں تھی لیکن انہوںنے یہاںرہ کرتعلیم جاری رکھی اور دہلی یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔اپنے شعری سفر کے بارے میںابرارصاحب کہتے ہیں؛’’ مجھے بچپن سے ہی شعروشاعری سے لگاؤتھا۔بچپن میںمیراترنم بہت پسندکیاجاتاتھا،اس زمانے میں ہونے والے سیرت کے
جلسوں،سیاسی تقاریب،جلسوںمیںنظمیں،نعوت سنی جاتی تھیں۔تبھی سے مجھے چسکا لگااور میںنے بزرگ شعراء کاکلام پڑھناشروع کردیا۔۱۹۵۸سے میںباقاعدہ قصبہ کی شعری محفلوںمیںشریک ہونے لگا۔‘‘
کرتپور کے شعراء میںحکیم محمدابراہیم جلیل جواردوکے مشہورشاعرحفیظ میرٹھی کے والدتھے،مفتی اقتدار حسین،عابدنسیم،میرے چچاقاضی امدادحسین امداد اور شائق کرتپوری جو اس زمانے میںکرتپور کی ادبی تقریبات کے روح رواںتھے۔ان حضرات نے ایک طرحی نشست میںمجھ سے طبع آزمائی کے لیے کہا۔مصر ع طرح تھا؛
’’محبت اٹھ گئی بزمِ جہاں‘‘ میںنے اس مصرع پرپہلی غزل کہی،جس کو میرے بزرگ شعراء نے پسند کیا؛
گلوں میں یہ مہک آئی کہاں سے
کوئی گزرا ہے شایدگلستاںسے
سحرہونے کو ہے اب آ بھی جاؤ
ستارے ہو چلے اب نیم جاں سے
الٰہی خیر ہوبیمارِغم کی
وہ ٹوٹا اک ستارہ آسماں سے
نشانے پر لیے بیٹھاہوںدل کو
کوئی تو تیر نکلے گا کماںسے
اس پہلی غزل پرحوصلہ افزائی نے میری ہمت بندھائی اوراس طرح شعرگوئی کاسلسلہ شروع ہوا اور میںابرارکرتپوری ہوگیا۔'(خوشبوخیال کی)
شاعری میں ان کے استاد مظفر نگر کے خوش فکر،ماہرِ عروض وبلاغت اور کہنہ مشق شاعر علامہ محمدابراہیم شاہدنوحی ہیں جنہوں نے اپنے اس ہونہارشاگرد پرپوری توجہ دے کر انہیںفنی نکات اور شعری اصولوں سے اس طرح آراستہ کیا کہ آج ابرار صاحب خود استادالشعراء کہلاتے ہیں۔انہوں نے جونئیرشعراء کی سرپرستی ہی نہیںکی بلکہ بہت سے ہم عمرشاعروںکی رہنمائی بھی کی ہے جن میںکچھ بڑے اور مشہور نام بھی شامل ہیں۔ ان کے باقاعدہ تلامذہ میںیاس چاندپوری،قاضی ناصرکرتپوری،سردار گورویندرسنگھ عازمؔ کوہلی اور سکندر عاقل جیسے معروف شعراء شامل ہیں۔ابرار صاحب شاعری کی ضرورتوںکے بارے میںکہتے ہیں؛
’’ 'طبع حساس شعرگوئی کے عمل کوروبہ کار لاتی ہے۔حواس خمسہ ظاہری اورباطنی اس عملِ فکرسخن میںخصوصی معاونین کارول اداکرتے ہیں۔انسان اپنے ماحول میں چلیء پھرتے،اٹھتے بیھٹتے،جاگتے سوتے جن حالات سے دوچار ہوتاہے وہ جوکچھ دیکھتاہے،سنتا اور محسوس کرتاہے خماہ کے ذریعہ قرطاس پراس کو اس شعری روپ عطاکرتا ہے۔شعرگوئی کے لیے بنیادی چیز’’موزونیِ طبع ‘‘ ے اس کے بغیر
کوئی شخص شاعری نہیں کرسکتا بالفاظِ دیگر موزونیِ طبع کے بغیر تجربے کے مطابق صحیح شعرکہنا ممکن ہی نہیں۔علاوہ ازیںصاف ستھرا اور بامعنی کلام کہنے کے لیے جہاںزبان وبیان کی جانکاری اور شاعری کے تمام محاسن کاعلم ہوناضروری ہے وہاں معائب شعری کاجاننا بھی نہایت ضروری ہے۔کلام میں فصاحت اوربلاغت مسلسل مطالعہ کے ذریعہ پیداہوتی ہے۔جب ہم اپنے بزرگ شعراء کاکلام پڑھتے ہیںتو اس سے ہمیںشعرفہمی کاشعور پیداہوتاہے۔یہی شعور ہماری شعری تخلیقات کواعتبار عطاکرتاہے۔شاعری ایک فن ہے جو بڑی ریاضت کے بعد حاصل ہوتاہے موجودہ دور میںجسے ترقی پذیردور کہاجاتاہے اس میںزبان کی تعلیم کا وہ طریقہ یا رواج اب نہیں پایاجاتا جواب سے پچاس ساٹھ سال پہلے تک رائج تھا۔جہاںتک اردو زبان کاتعلق ہے اس کاڈھانچہ ہندوستانی ہے۔لیکن اس کی تزئین عربی اورفارسی الفاظ سے ہوئی ہے۔ہرچند اردو میں بے شمار الفاظ دوسری زبانوں کے شامل ہیں۔لیکن یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ آج بھی اردوکاجادوسرچڑھ کربولتاہے۔ہر چند پرائمری لیول پراردو کی تعلیم کاانتظام نہیں ہے تاہم یہ زبان اردو نامساعد حالات میںبھی کسی نہ کسی طرح زندہ ہے اسے اس زبان کی کرامت ہی کہیے ۔‘‘(روشنی تخیئل کی)
جناب ابرارکرتپوری گزشتہ چاردہائیوںسے دہلی شہرکی علمی ادبی سرگرمیوں میں پیش پیش رہتے ہیں۔۱۹۶۹میں غالب صدی دھونم دھام سے منائی گئی تھی،اسی سال بستی حضرت نظام الدین میں حکیم عبدالحمیدصاحب نے غالب ا کیڈمی کی تعمیرکرائی،اس زمانے میںابرار صاحب بستی حضرت نظام الدین میںہی سکونت پذیرتھے۔ہمدرد کے ہی ایک کارکن تھے مرحوم شاعر واجدسحری سے یہیں دوستی ہوئی ،دونوںکی رفاقت نے غالب اکیڈمی کوجہت جلددلی کافعال اورمتحرک علمی ادبی مرکزبنادیا۔واجدسحری مرحوم انجمن ساز وادب کے تحت مشاعرے اورتہذیبی پروگرام منقعدکرنے شوقین تھے،ابرارصاحب نے بھی ایک علمی وادبی تنظیم مرکزعلم ودانش قائم کررکھی تھی،اس کیذریعہ سیمینار،مشاعرے وغیرہ ہوتے رہے تھے۔غالب اکیڈمی کے سیکریٹری سید ذہین نقوی مرحوم کی سرپرستی میں بزم یادگار انیس قائم کی ہوئی تھی اس کے پروگراموں میں یہ دونوں اصحاب بھی سرگرم رہتے تھے۔
ابرارصاحب۱۹۹۹میں دیال سنگھ کالج کی ملازمت سے سبکدوش ہوئے اس وقت تک وہ ملک گیر شہرت کے حامل شاعروںمیںشمارہونے لگے تھے۔انہوںنے غزل ،رباعی ،نظم،مثنوی ہرصنف سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔لیکن حمدونعت ان کا فن ہی نہیں مقصدحیات بن چکا ہے۔چندسال قبلحضرت نظام الدین سے جامعہ نگر منتقل ہوئے یہاں انہوں نے باقاعدہ ایک دینی اشاعتی ادارہ ’’حمدونعت اکیڈمی‘‘ کے نام سے قائم کیا جس کے مقاصد میں حمدونعت کے میدان میں نمایاں شعری تحقیقی واشعتی خدمات کے حامل اصحاب کی حوصلہ افزائی کے لیے ایوارڈواعزازت کی پیشکشی،نعتیہ حمدیہ مشاعروں ومحافل کا انقعاد اور نشرواشاعت کے کام شامل ہیں انہوں نے نئے لب ولہجے میں عصری حسیات سے معمور نوکلاسیکی غزلیہ روایات کی پابندی کے ساتھ عصری مزاج سے اہم آہنگ خوبصورت کلام تخلیق کیااور ملک بھرکے مشاعروں کے پسندیدہ شاعر بنے،ان کاکلام برصغیر کے موقراخبارات وجرائدمیں شائع ہوکرارسوقارئین کی ضیافت طبع کا باعث بنا۔لیکن اس وقت جب کہ ان کی شہرت اور مقبولیت کا آفتاب نصف النہار پرتھا انہوںنے غزل سے کنارہ کشی اختیارکی اور پوری
طرح مدحت سرورکائناتﷺ کے لیے خودکو وقف کردیا۔لیکن ان کے دو شعری مجموعے ’’خوشبوخیال کی‘‘ او ر ’’روشنی تخئیل کی‘ ‘ انہوں نے اس عہدکا میںجواںفکرشاعر غزل گو شاعر ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔ابرار کرتپوری نے بچوں کے لیے خوبصورت اصلاحی ومعلوماتی نظمیںبھی لکھی ہیں۔دلکش نظمیں اوربچپن دومجموعے اردو کے ادب اطفال میںخوبصورت اضافہ تسلیم کرتے ہوئے حکومت ہند کے ترقی اردوبیورو نے شائع کئے۔ابرار صاحب کا تازہ ترین کارنامہ حمدیہ نعتیہ رباعیات ’’عقیدت پارے‘‘کے عنوان سے ان کیء ادارے حمدونعت اکیڈمی سے شائع ہواہے۔وہ ضلع بجنور کے نعت گوشعراء پرایک تحقیقی کتاب مرتب کرچکے ہیںجوجلدہی شائع ہونے والی ہے۔اس کے ساتھ ہی بجنورکے شعرا اور ادیبوںکی تاریخ پربھی کام کررہے ہیں،ان کاشاندار علمین کارنامہ اردوزبان وشاعری پرنثرمیںمعلوماتی کتاب ’’مفتاحِ سخن‘‘ ہے یہ کتاب بھی طباعت کے مراحل میںہے۔یسی ایک اورکتاب ’’نعت‘‘ کے بارے میں تحقیقی مطالعہ ہے۔ابرار کرتپوری کاعلمی،ادبی،شعری،تہذیبی اورروحانی سفر جاری ہے،چونکہ مزاجاََ وہ انتہائی خلیق،محبتی اور بے لوث انسان ہیں اس لیے ان کے دوستوںاورچاہنے والوںکی تعدادبہت زیادہ ہے۔سب کی دلجوئی ،سب کے ساتھ تعاون اور سب کااحترام ان کے مزاج کاخاصہ ہے۔انہیں دوسرے عام ادیبوںاورشاعروںکی طرح ایک دوسرے کونیچادکھانے یاخود دوسروںسے برتر ظاہر کرنے کی عادت نہیں،کسی سے انہیں کوئی شکایت نہیں،کسی کی برائی کرناگناہ کبیرہ سمجھتے ہیں،مجموعوی طور پرابرارصاحب ایک مرنجاںمرنج انسان ہیں جن کلی شرافتوںکی قسم کھائی جاسکتی ہے۔
ابرار کرت پوری اکابرین کی نظر میں
پروفسیر تنویراحمدعلوی ’’اردو میں والہانہ شاعری (نعتیہ) اور نعتیہ نظموںکی دلآویز کڑیاں ملتی ہیں۔اچھااچھی فکرکے ساتھ جنم لیتا ہے،جس کے سوتے کبھی خشک نہیں ہوتے۔یہ سرچشمہ آبحیات کی طرح امر ہے کہ اس تعلق عشق رسولﷺ سے ہم بجا طورپرابرار کی نعتیہ شاعری میںنئی جہتوں کے ابھرنے اور نئی معنوں وسعتوں کے سامنے آنے کی توقع رکھتے ہیں۔‘‘
رئیس امروہوی ’’جناب ابرار کرتپوری نے اس ’’شان رفعت ‘‘ کو موضوع سخن قرار دے کر ’’ورفعنالک ذکرک ‘‘ کے عنوان سے نعت کاپورامجموعہ کلام مرتب کردیا ہے۔جس کی ابتدا حمدسے ہوتی ہے کیارواں دلنشیں حمد ہے۔‘‘
پروفیسر نثار احمدفاروقی ’’جناب ابرار کرتپوری ایک سلیقہ شعار سخنور ہیں انہیں زبان وبیان پربھی دسترس ہے اور اظہاروادا میں بانکپن پیداکرنے کا ہنر بھی جانتے ہیں ۔وہ غزل،نظم،قطعات وغیرہ یکساں سہولت کے ساتھ لکھتے ہیں۔نعت ایک نہایت مشکل مضمون ہے اور اس میں کیف واثر محض عطیہ خداوندی ہے۔ابرار صاحب کی نعتیں دل کی آوازمعلوم ہوتی ہیں۔ادبی اعتبار سے ان کا وصف یہ ہے کہ نئی زمینوں کا انتخاب کیاہے اور اسلوب کی جدت کا اہتمام رکھاہے‘‘
پروفیسر ظہیراحمدصدیقی ’’نعتیہ شاعری میں جذبۂ عشق اورعقیدت بنیادی محرک کی حیثیت رکھتے ہیں۔اس حقیقت سے کون انکارکرسکتاہیکہمسلمان کے ذہنی اورروحانی رشتوں میں قوی ترین رشتہ وہی ہے جو ہر مسلمان کے لیے رسولِ اکرم ﷺ سے وابستگی کا ضامن ہے اوریہی نعتیہ شاعری کا محرک ہے ابرار کرتپوری کے نعتیہ شاعری کی اس شرط کا احترام کیا ہے ان دونوں عناصر کے امتزاج سے نعتیہ شاعری کی تشکیل ہوتی ہے‘‘
مخمورسعیدی ’’ابرار کرتپوری کا نعتیہ کلام روح کی بالیدگی پیداکرنے والا ہے اور یہ پیغام دینے والا بھی کہ مادی زندگی میں بھی ہدایت کا سرچشمہ خدااور رسولﷺ کی ذات اور ان کے فرمودات کے سوا کہیں تلاش کرنا محض سعیِ لا حاصل ہے۔بنی نوع انسان جن مسائل اور مشکلات سے دوچارہے ان کے حل کے لیے انہیں مقدس بارگاہوں کا رخ کرنا ہوگا۔میری دعاہے کہ ابرار کے یہ الفاظ جوحمدونعت کی شکل ڈھل گئے ہیں خدااوررسولﷺ کی بارگاہ میں مستجاب ہوں۔آمین۔
صحرائے غزل سے گلزارِ حمدونعت تک
Reviewed by WafaSoft
on
July 27, 2019
Rating:


No comments: