لگیں اور خوش تر مدینے کی باتیں
مدینے میں رہ کر مدینے کی باتیں
گزرتا ہے دل روحِ وارفتگی سے
وہ رکھتی ہیں جوہر مدینے کی باتیں
میرے گرد لوگوں میلہ سا دیکھا
جو آئیں لبوں پر مدینے کی باتیں
نہ کیوں عرش پر ہو دماغ اس زباں کا
ہوں جس کا مقدر مدینے کی باتیں
نگاہوں کی حیرت، سماعت کی دولت
مدینے کا منظر مدینے کی باتیں
منور منور مدینے کے گوشے
معطر معطر مدینے کی باتیں
کوئی آنسوئوں کا سنبھالے کہاں تک
اگر ہوں برابر مدینے کی باتیں
سنیں گے کچھ ایسے بھی ہیں سننے والے
جو ہوں زندگی بھر مدینے کی باتیں
قمرؔ ہم سے پوچھو، ہمارے لیے تو
ہیں تسنیم و کوثر مدینے کی باتیں
قمر وارثی (کراچی)
لگیں اور خوش تر مدینے کی باتیں
Reviewed by WafaSoft
on
July 28, 2019
Rating:


No comments: