نعت رسول اعظم ﷺ : ایک پیغام ۔۔۔ایک تحریک
سیّد محمداکرام شاہ جیلانی۔
اوسلو
اُمتِ مسلمہ کے باشعور
افراد۔ غارِ حرا کی خلوتوں کو چھوڑکر اُمت کی غم خواری کے لیے نسخۂ کیمیا لے کر
آنے والے رحیم و کریم آقاﷺ کے مقا صد بعثت کی عالمگیریت اور حصول مقاصد کے لیے
اسباب میں ہمہ گیریت کو اپنانے کی حکمتوں میں ذراغور کریں کہ پیغمبررحمتﷺنے ان
عالم گیر مقاصد کے حصول اور اُن کی تبلیغ بلیغ کے لیے ہر طرح کے معلّمین، مبلغین،
مجاہدین کے ساتھ ساتھ ہر قدم پر نعت گو شعراے کرام کو بھی اس تحریک میں اہم منصب
اور نمایاں حیثیت عطا فرمائی۔
افراد۔ غارِ حرا کی خلوتوں کو چھوڑکر اُمت کی غم خواری کے لیے نسخۂ کیمیا لے کر
آنے والے رحیم و کریم آقاﷺ کے مقا صد بعثت کی عالمگیریت اور حصول مقاصد کے لیے
اسباب میں ہمہ گیریت کو اپنانے کی حکمتوں میں ذراغور کریں کہ پیغمبررحمتﷺنے ان
عالم گیر مقاصد کے حصول اور اُن کی تبلیغ بلیغ کے لیے ہر طرح کے معلّمین، مبلغین،
مجاہدین کے ساتھ ساتھ ہر قدم پر نعت گو شعراے کرام کو بھی اس تحریک میں اہم منصب
اور نمایاں حیثیت عطا فرمائی۔
معلمِ انسانیتﷺ نے نعت گوئی
کے لیے اپنا منبرمبارک اور اپنی چادر و بردہ مبارک عطافرماکر صرف نعت گو حضرات کو
ہی اعزاز نہیں بخشا بلکہ نعت گوئی کو اسلام کے اعلیٰ مقاصد کی تبلیغ اور ہمہ جہت
تحریک کے پیش نظر اس منصب کی عظمت کو بھی ظاہر فرمادیا اور جبریل امین کو نعت گوئی
میں اُن کا الہامی معاون قرار دے کر اس منصب کی عظمت کو تائیدالٰہی حاصل ہونے کی
بشارت بھی عطا فرمادی جو نعت گوئی کی آسمانی فضیلت اور مقبولیت کے ساتھ ساتھ اس کی
زمینی ہمہ گیر ضرورت و اہمیت کو بھی بدرِ منیر بنا رہی ہے۔
کے لیے اپنا منبرمبارک اور اپنی چادر و بردہ مبارک عطافرماکر صرف نعت گو حضرات کو
ہی اعزاز نہیں بخشا بلکہ نعت گوئی کو اسلام کے اعلیٰ مقاصد کی تبلیغ اور ہمہ جہت
تحریک کے پیش نظر اس منصب کی عظمت کو بھی ظاہر فرمادیا اور جبریل امین کو نعت گوئی
میں اُن کا الہامی معاون قرار دے کر اس منصب کی عظمت کو تائیدالٰہی حاصل ہونے کی
بشارت بھی عطا فرمادی جو نعت گوئی کی آسمانی فضیلت اور مقبولیت کے ساتھ ساتھ اس کی
زمینی ہمہ گیر ضرورت و اہمیت کو بھی بدرِ منیر بنا رہی ہے۔
تصورِمقصدیت نعت
کسی عمل کی روح اس کے
مقصدکی واضحیت،خالصیت اور ہمہ گیریت سے متعلق ہوتی ہے اور پچھلی چند صدیوں سے
اسلام کو قوت و فروغ دینے والے بنیادی عناصر اور شعائر کو محدود مقاصد اور نجی
مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس صورت حال کو ایک باشعور دردِ دل رکھنے
والا مسلمان جب دیکھتا ہے کہ اسلام کے دورِاوّل میں اُن اسلامی عناصر، ارکان اور
شعائر کو جن عظیم مقاصد کے لیے جاری کیا گیاتھا اور اس نے کیا اثرات مرتب کیے جس
سے اسلام ایک زندہ تحریک بن کر اُبھر ا اور اقوامِ عالم کے قلوب و اذہان کو تسخیر
کرتا چلا گیا اور آج تصورات محدود ہو جانے کی وجہ سے مقاصد و مفادات بھی محدود
ہوگئے ہیں۔ نتیجتاً اُن کے نتائج بھی کم سے کم ہوگئے ہیں۔
مقصدکی واضحیت،خالصیت اور ہمہ گیریت سے متعلق ہوتی ہے اور پچھلی چند صدیوں سے
اسلام کو قوت و فروغ دینے والے بنیادی عناصر اور شعائر کو محدود مقاصد اور نجی
مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس صورت حال کو ایک باشعور دردِ دل رکھنے
والا مسلمان جب دیکھتا ہے کہ اسلام کے دورِاوّل میں اُن اسلامی عناصر، ارکان اور
شعائر کو جن عظیم مقاصد کے لیے جاری کیا گیاتھا اور اس نے کیا اثرات مرتب کیے جس
سے اسلام ایک زندہ تحریک بن کر اُبھر ا اور اقوامِ عالم کے قلوب و اذہان کو تسخیر
کرتا چلا گیا اور آج تصورات محدود ہو جانے کی وجہ سے مقاصد و مفادات بھی محدود
ہوگئے ہیں۔ نتیجتاً اُن کے نتائج بھی کم سے کم ہوگئے ہیں۔
اس صورتِ حال کو دیکھ کر ہر
باشعور مسلمان خون کے آنسو روتا ہے۔ بالخصوص نعت کے شعبے سے وابستہ نعت گو شعرا
کو، نعت خوانان حضرات کو، نعتیہ ادب پر لکھنے والے دانش وروں کو محافلِ نعت منعقد
کرنے والوں کو، نعت کے شائقین کو، فیکٹریوں، کارخانوں، ہوٹلوں،
باشعور مسلمان خون کے آنسو روتا ہے۔ بالخصوص نعت کے شعبے سے وابستہ نعت گو شعرا
کو، نعت خوانان حضرات کو، نعتیہ ادب پر لکھنے والے دانش وروں کو محافلِ نعت منعقد
کرنے والوں کو، نعت کے شائقین کو، فیکٹریوں، کارخانوں، ہوٹلوں،
سیاسی و سرکاری جلسوں،
میڈیا پر سالانہ محافل منعقد کروا کر کروڑوں روپے لٹانے اور سیکڑوں عمرے کی ٹکٹیں
بانٹنے والوں کو جب دیکھتا ہے اور دوسری طرف عہدرسالت مآبﷺ اور اس سے متصل صدیوں
میں نعت کے عالی شان منصبِ سعادت اور اس کے عظیم جہادی، اصلاحی، تعلیمی و تربیتی
مقاصد کی لگن نے جو مؤثر تحریک پیدا کی اسے تصور میں لاتا ہے تو وہ یہ سوچنے پر
مجبور ہوجاتاہے کہ آج کے گم کردہ راہ مسلمان کو کیسے سمجھایا جائے کہ کیا نعتِ
رسول اکرمﷺ صرف ایسے ہی چند محدود مقاصد کے لیے شروع کی گئی تھی، جن کو تم نے اپنا
رکھا ہے؟
میڈیا پر سالانہ محافل منعقد کروا کر کروڑوں روپے لٹانے اور سیکڑوں عمرے کی ٹکٹیں
بانٹنے والوں کو جب دیکھتا ہے اور دوسری طرف عہدرسالت مآبﷺ اور اس سے متصل صدیوں
میں نعت کے عالی شان منصبِ سعادت اور اس کے عظیم جہادی، اصلاحی، تعلیمی و تربیتی
مقاصد کی لگن نے جو مؤثر تحریک پیدا کی اسے تصور میں لاتا ہے تو وہ یہ سوچنے پر
مجبور ہوجاتاہے کہ آج کے گم کردہ راہ مسلمان کو کیسے سمجھایا جائے کہ کیا نعتِ
رسول اکرمﷺ صرف ایسے ہی چند محدود مقاصد کے لیے شروع کی گئی تھی، جن کو تم نے اپنا
رکھا ہے؟
کیا نعت صرف حضورﷺ سے فرد
کی ایمانی محبت کے اظہار کے لیے تخلیق ہوئی؟
کی ایمانی محبت کے اظہار کے لیے تخلیق ہوئی؟
کیا صحابہ کرام ث نے صرف
اپنے عقیدے کی صحت پر دلیل قائم کرنے کے لیے نعت خوانی کی؟
اپنے عقیدے کی صحت پر دلیل قائم کرنے کے لیے نعت خوانی کی؟
کیا شعر و ادب کے شوقین چند
صحابہ کرام ث نے شعری ادب کی روایت کے تسلسل اور ذاتی ذوقِ شعر گوئی کو قائم رکھنے
کے لیے نعت گوئی کی؟
صحابہ کرام ث نے شعری ادب کی روایت کے تسلسل اور ذاتی ذوقِ شعر گوئی کو قائم رکھنے
کے لیے نعت گوئی کی؟
کیا نعت گو شعرا نے ادبی
محافل گرم کرنے اور اپنے بلند تخیل اور فکری پرواز کے جوہر دکھانے کے لیے نعت کہی؟
محافل گرم کرنے اور اپنے بلند تخیل اور فکری پرواز کے جوہر دکھانے کے لیے نعت کہی؟
کیا رسولِ اکرمﷺنے شعر کی
سحر انگیزی کے ذریعے دینی دعوت کو مؤثر بنانے اور شاعروں کی دین میں عزت افزائی
فرمانے کے لیے شعر و شاعری کو دین میں شامل کیا؟
سحر انگیزی کے ذریعے دینی دعوت کو مؤثر بنانے اور شاعروں کی دین میں عزت افزائی
فرمانے کے لیے شعر و شاعری کو دین میں شامل کیا؟
یا مسلمانوں کو اپنے مال و
اولاد یا کاروبار میں برکت کے لیے اور اپنے شادی ہال، کارخانے اور ہوٹل کی تشہیر
کے لیے وہاں محفلِ نعت یا فیکٹری کے مالکان کی طرف سے عمرے کا ٹکٹ دے کر اعلانات
کروا کر نعت و مذہب کے اسٹیج سے بزنس چمکانے کے لیے نعت جاری کی گئی ہے؟ یا صرف
عوام کی نظروں میں معزز بننے کے لیے میڈیا اور اسٹیج کی زینت بنے اور مذہبی مجالس
یا حکومتی جلسوں کو کامیاب کرنے کے لیے بہترین فن کا مظاہرہ کرکے صدارتی تمغے لینے
کے لیے نعت کو بھی ایک شغل و فن اور نعت خواں کو فنکار بنانے کے لیے یہ نعت خوانی
شروع کی گئی؟ وغیرہ وغیر ہ وغیرہ۔
اولاد یا کاروبار میں برکت کے لیے اور اپنے شادی ہال، کارخانے اور ہوٹل کی تشہیر
کے لیے وہاں محفلِ نعت یا فیکٹری کے مالکان کی طرف سے عمرے کا ٹکٹ دے کر اعلانات
کروا کر نعت و مذہب کے اسٹیج سے بزنس چمکانے کے لیے نعت جاری کی گئی ہے؟ یا صرف
عوام کی نظروں میں معزز بننے کے لیے میڈیا اور اسٹیج کی زینت بنے اور مذہبی مجالس
یا حکومتی جلسوں کو کامیاب کرنے کے لیے بہترین فن کا مظاہرہ کرکے صدارتی تمغے لینے
کے لیے نعت کو بھی ایک شغل و فن اور نعت خواں کو فنکار بنانے کے لیے یہ نعت خوانی
شروع کی گئی؟ وغیرہ وغیر ہ وغیرہ۔
یقینا دورِ خیر القرون کا
مطالعہ کرنے والے کا فیصلہ یہی ہوگا کہ اسلام میں نعت خوانی کے مقاصد ہرگز یہ نہیں
ہوسکتے اور رفعت ذکرِ مصطفیٰﷺ کاصرف یہی معنیٰ نہیں ہوسکتا؟
مطالعہ کرنے والے کا فیصلہ یہی ہوگا کہ اسلام میں نعت خوانی کے مقاصد ہرگز یہ نہیں
ہوسکتے اور رفعت ذکرِ مصطفیٰﷺ کاصرف یہی معنیٰ نہیں ہوسکتا؟
دعوتِ فکر
اُمتِ مسلمہ کے زوال کے
اسباب میں سے کیا ایک یہ بھی نہیں کہ ہم نے ہر دینی شعائر اور مذہبی فریضے کو ایک
عادت و راویت تو بنا لیا ہے مگر فرد کی کردار سازی،معاشرے کی اصلاح اور اسلامی
معاشرت کے استحکام و فروغ کے لیے متحرک وسیلہ نہیں بنا سکے۔ وقتی تسکین اور ذاتی
دینی شہرت کا وسیلہ تو ہم نے بنا لیا مگر اسلامی معاشرے کی تشکیل نو کا وسیلہ
بنانے کی ذمّے داریاں نبھانے میں پورے اخلاص سے کام نہیں لیا۔آئیں اِس نکتہ پر
دعوتِ فکر دینا شروع کریں کہ رحمتِ عالمﷺکی نعت کے وسیلے سے اُمتِ مسلمہ کے افراد
کی پیغامِ رسالت کے ذریعے بیداری کا کام لیا جائے۔فیضانِ رسالت مآبﷺ کے ذریعے قلوب
و اذہان کی آب یاری اور دین و ایمان کی سر شاری کا کام لیا جائے۔ عرفانِ رسالت کے
ذریعے افراد کی ارواح و نفوس میں اعلاے کلمۃ الحق کے لیے جانثاری کا جذبہ پیدا
کرنے کا کام کیوں نہیں لیا جاسکتا۔ مضامینِ نعت میں نظامِ مصطفیٰﷺ کی اشاعت،اصلاحِ
احوالِ اُمت اور حضورﷺ کی دینی مدد و نصرت کا شعور کیوں نہیں بڑھایا جاسکتا اور
انسانیت کے دکھوں اور غموں کے بہتر مداوے اور امراضِ ملت کی دوا کاکام کیوں نہیں لیا
جاسکتا۔ ورنہ ایسا نہ ہوکہ لوگ اسلام کے بہتر نتائج حاصل ہونے سے نا امید ہو نااور
نعت خوانی کے انسانی زندگی میں مفید نتائج کو ہمیشہ کے لیے بھول جانا شروع نہ
کردیںکہ ان چیزوں سے کیا ملتا ہے
؎
اسباب میں سے کیا ایک یہ بھی نہیں کہ ہم نے ہر دینی شعائر اور مذہبی فریضے کو ایک
عادت و راویت تو بنا لیا ہے مگر فرد کی کردار سازی،معاشرے کی اصلاح اور اسلامی
معاشرت کے استحکام و فروغ کے لیے متحرک وسیلہ نہیں بنا سکے۔ وقتی تسکین اور ذاتی
دینی شہرت کا وسیلہ تو ہم نے بنا لیا مگر اسلامی معاشرے کی تشکیل نو کا وسیلہ
بنانے کی ذمّے داریاں نبھانے میں پورے اخلاص سے کام نہیں لیا۔آئیں اِس نکتہ پر
دعوتِ فکر دینا شروع کریں کہ رحمتِ عالمﷺکی نعت کے وسیلے سے اُمتِ مسلمہ کے افراد
کی پیغامِ رسالت کے ذریعے بیداری کا کام لیا جائے۔فیضانِ رسالت مآبﷺ کے ذریعے قلوب
و اذہان کی آب یاری اور دین و ایمان کی سر شاری کا کام لیا جائے۔ عرفانِ رسالت کے
ذریعے افراد کی ارواح و نفوس میں اعلاے کلمۃ الحق کے لیے جانثاری کا جذبہ پیدا
کرنے کا کام کیوں نہیں لیا جاسکتا۔ مضامینِ نعت میں نظامِ مصطفیٰﷺ کی اشاعت،اصلاحِ
احوالِ اُمت اور حضورﷺ کی دینی مدد و نصرت کا شعور کیوں نہیں بڑھایا جاسکتا اور
انسانیت کے دکھوں اور غموں کے بہتر مداوے اور امراضِ ملت کی دوا کاکام کیوں نہیں لیا
جاسکتا۔ ورنہ ایسا نہ ہوکہ لوگ اسلام کے بہتر نتائج حاصل ہونے سے نا امید ہو نااور
نعت خوانی کے انسانی زندگی میں مفید نتائج کو ہمیشہ کے لیے بھول جانا شروع نہ
کردیںکہ ان چیزوں سے کیا ملتا ہے
؎
گر ذکرِ نبی درد کا درمان نہ ہوتا
ہرگز یہ میری زیست کا سامان
نہ ہوتا
نہ ہوتا
آج تھوڑی دیر کے لیے رک کر
ہمارے دینی راہنمائوں،د انش وروں اور سرکاری قائدین کو سر جوڑ کر سوچنا چاہیے اور
اسلامی ممالک میں دینی روح کی کمزوری کے اسباب ختم کرنے اور صحا بہ کرام ث کے نعت
و ذکرِ مصطفیٰﷺ کے ذریعے قوم میں ملّی روح مضبوط بنانے کے طریقوں کو پھر سے زندہ
کرنے کے لیے انھی کی مقدس زندگیوںسے مفید طریقے تلاش کر کے من و عن جاری کرنے کی
کوشش کرنی چاہیے۔
ہمارے دینی راہنمائوں،د انش وروں اور سرکاری قائدین کو سر جوڑ کر سوچنا چاہیے اور
اسلامی ممالک میں دینی روح کی کمزوری کے اسباب ختم کرنے اور صحا بہ کرام ث کے نعت
و ذکرِ مصطفیٰﷺ کے ذریعے قوم میں ملّی روح مضبوط بنانے کے طریقوں کو پھر سے زندہ
کرنے کے لیے انھی کی مقدس زندگیوںسے مفید طریقے تلاش کر کے من و عن جاری کرنے کی
کوشش کرنی چاہیے۔
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا
کر دے
کر دے
میری معلومات کے مطابق جب
کسی غافل ادیب نے سیّد صبیح الدین صبیح رحمانی صاحب کے سامنے علم و ادب کی دنیا
میں نعت کے علمی و ادبی مقام کا انکار کیا تو اس عاشقِ صادق کی روح تڑپ اُ ٹھی او
ر نعتیہ ادب کے منکرین کے ردّو جواب اور نعتیہ ادب کی علمی و شرعی حجیت ثابت کرنے
کے لیے اس معصوم عاشقِ رسولﷺ نے اپنے لمحاتِ زندگی اس عظیم ادبی کام کے لیے وقف کر
دیے۔ علم و ادب میں شعر کا مقام، نعتیہ ادب کے اجزاے ترکیبی، نعت کی تعریف، اسلام
میں نعتیہ ادب کی تاریخ او ر اِس کے دینی مرتبہ و مقام، نعت گو شعراے کرام کی طویل
فہرستیں اور ہر دور میں نمایاں نعت گو شعرا اور گم نام عاشقانِ نعتِ مصطفیٰﷺ کے
کلام اور دیوان کا تعارف بڑی محنت سے تلاش کرکے سامنے لارہے ہیں اور عہدنبوی سے
نعت گو صحابہ کرام ث اور صحابیات کے کلام اور بارگاہِ رسالت مآبﷺ سے قبولیت کی سند
اور خصوصی اعزازات پانے والے نعت سے متعلقہ خوش نصیبوں کا ذکر ہر دور میں مختلف
علمی و ادبی،فنی و تنقیدی اور تحقیقی و تاریخی موضوعات اوراس جیسے کثیر قدیم و
جدید موضوعات کا خوب صورت سلسلہ اہلِ علم و دانش کی محنتوں اور کاوشوں سے سامنے
آیا مگر میرا موضوع حضور رسالت مآبﷺکے عہد مبارک میں تحفظِ ناموس و عصمتِ رسولﷺ،
فروغِ عشقِ رسولﷺ، تبلیغ سیرتِ رسولﷺ، اشاعتِ دینِ رسولﷺ، اصلاحِ عہدِ رسولﷺ،
تربیتِ اُمتِ رسولﷺ، بیداریِ ملّتِ رسولﷺ، جہادِ قومِ رسولﷺ، تحریکِ اصحابِ رسولﷺ
جیسے کئی دیگر مقاصد کے لیے نعت و شعر نے جو نتائج پیدا کیے اُن سے علمی و عملی،
فکری و نظریاتی، روحانی و جذباتی، دعوتی و تربیتی اور معاشرتی و ثقافتی برکتوں کا
شعور مانگ کر اپنے عہد کے غموں کا مداوا کرنے کی دعوت دینا ہے۔کیوں کہ پوری
انسانیت کے لیے صرف وہی
کسی غافل ادیب نے سیّد صبیح الدین صبیح رحمانی صاحب کے سامنے علم و ادب کی دنیا
میں نعت کے علمی و ادبی مقام کا انکار کیا تو اس عاشقِ صادق کی روح تڑپ اُ ٹھی او
ر نعتیہ ادب کے منکرین کے ردّو جواب اور نعتیہ ادب کی علمی و شرعی حجیت ثابت کرنے
کے لیے اس معصوم عاشقِ رسولﷺ نے اپنے لمحاتِ زندگی اس عظیم ادبی کام کے لیے وقف کر
دیے۔ علم و ادب میں شعر کا مقام، نعتیہ ادب کے اجزاے ترکیبی، نعت کی تعریف، اسلام
میں نعتیہ ادب کی تاریخ او ر اِس کے دینی مرتبہ و مقام، نعت گو شعراے کرام کی طویل
فہرستیں اور ہر دور میں نمایاں نعت گو شعرا اور گم نام عاشقانِ نعتِ مصطفیٰﷺ کے
کلام اور دیوان کا تعارف بڑی محنت سے تلاش کرکے سامنے لارہے ہیں اور عہدنبوی سے
نعت گو صحابہ کرام ث اور صحابیات کے کلام اور بارگاہِ رسالت مآبﷺ سے قبولیت کی سند
اور خصوصی اعزازات پانے والے نعت سے متعلقہ خوش نصیبوں کا ذکر ہر دور میں مختلف
علمی و ادبی،فنی و تنقیدی اور تحقیقی و تاریخی موضوعات اوراس جیسے کثیر قدیم و
جدید موضوعات کا خوب صورت سلسلہ اہلِ علم و دانش کی محنتوں اور کاوشوں سے سامنے
آیا مگر میرا موضوع حضور رسالت مآبﷺکے عہد مبارک میں تحفظِ ناموس و عصمتِ رسولﷺ،
فروغِ عشقِ رسولﷺ، تبلیغ سیرتِ رسولﷺ، اشاعتِ دینِ رسولﷺ، اصلاحِ عہدِ رسولﷺ،
تربیتِ اُمتِ رسولﷺ، بیداریِ ملّتِ رسولﷺ، جہادِ قومِ رسولﷺ، تحریکِ اصحابِ رسولﷺ
جیسے کئی دیگر مقاصد کے لیے نعت و شعر نے جو نتائج پیدا کیے اُن سے علمی و عملی،
فکری و نظریاتی، روحانی و جذباتی، دعوتی و تربیتی اور معاشرتی و ثقافتی برکتوں کا
شعور مانگ کر اپنے عہد کے غموں کا مداوا کرنے کی دعوت دینا ہے۔کیوں کہ پوری
انسانیت کے لیے صرف وہی
کامل و آخری الوہی شفاخانہ
ہے۔ جہاں سے جاں بلب انسانیت اور پریشان معاشروں کو حقیقی سکون افزا زندگی کی
خیرات ملتی ہے ؎
ہے۔ جہاں سے جاں بلب انسانیت اور پریشان معاشروں کو حقیقی سکون افزا زندگی کی
خیرات ملتی ہے ؎
ہمیں تلاش ہے جس کی وہ
زندگی کا نظام
زندگی کا نظام
شہِ انام کی وابستگی سے ملتا
ہے
ہے
خدا کرے سیّد صبیح الدین
صبیح رحمانی صاحب کی طرح کسی اور پُر درد شاعر اور فاضل ادیب کو بھی ایسا حادثہ
پیش ا ٓئے کہ دورِ حاضر میں سیکولر مادّی نظام کے دلدادہ اور دینِ مصطفیٰﷺ کی علمی
و معاشرتی روح کے دشمن کو جو اُمت کے تنِ بیمار سے روحِ محمدیﷺ کو نکالنے کی سر
توڑ کو شش کر رہے ہیں، اُن میں سے کسی کا سامنا ہو جائے اور اُس شاعر و ادیب کے دل
میں مادیت زدہ مایوس سیکولر ذہنوں کو اسلام کے روحانی نظام کی اور اپنے انتہاپسند
مذہبی ذہنوں کو نظامِ مصطفیٰﷺ کی حقیقی ہمہ جہت برکتوں کو متعارف کروانے کی اور
عملاً ذمّے دار ذہنوں کو اس ذمّے داری کا شعور دے کر ذوقِ عمل اور سُنّت کی
شاہراہِ اعظم پر گامزن کرنے کی تحریک پیدا کرنے کی تڑپ پیدا ہو جائے اور ’’نعت
رنگ‘‘ کی طرح یا اسی کو عملاً تحریک ’’نعت رنگ‘‘ یا سیرت و ’’نعت رنگ‘‘ بنانے کے
لیے اپنی صلاحیتیں وقف کردے۔ اور جس شاعر کی نوا مُردہ و افسردہ و بے ذوق ہوچکی ہے
اس کی خودی کی تلوار کو تیز کر کے اپنا ہم نوا بنا سکے تاکہ چمنستانِ نعتِ مصطفیٰﷺ
میں صرف ایک بلبل ہی محو ترنم نہ رہے بلکہ ہر طرف سے غیرتِ مسلم کو زندہ و بیدار
کرنے والے نغمے سنانے والے ملتے جائیں اور کارواں بنتا جائے اور کاروانِ اُمتِ
مصطفیٰﷺ کی عظمتِ رفتہ کے نقوش اور شوکت و سطوت کے آثار مٹانے والوںسے نعت کی
تلوار لے کراعلانِ جہاد کریں۔
صبیح رحمانی صاحب کی طرح کسی اور پُر درد شاعر اور فاضل ادیب کو بھی ایسا حادثہ
پیش ا ٓئے کہ دورِ حاضر میں سیکولر مادّی نظام کے دلدادہ اور دینِ مصطفیٰﷺ کی علمی
و معاشرتی روح کے دشمن کو جو اُمت کے تنِ بیمار سے روحِ محمدیﷺ کو نکالنے کی سر
توڑ کو شش کر رہے ہیں، اُن میں سے کسی کا سامنا ہو جائے اور اُس شاعر و ادیب کے دل
میں مادیت زدہ مایوس سیکولر ذہنوں کو اسلام کے روحانی نظام کی اور اپنے انتہاپسند
مذہبی ذہنوں کو نظامِ مصطفیٰﷺ کی حقیقی ہمہ جہت برکتوں کو متعارف کروانے کی اور
عملاً ذمّے دار ذہنوں کو اس ذمّے داری کا شعور دے کر ذوقِ عمل اور سُنّت کی
شاہراہِ اعظم پر گامزن کرنے کی تحریک پیدا کرنے کی تڑپ پیدا ہو جائے اور ’’نعت
رنگ‘‘ کی طرح یا اسی کو عملاً تحریک ’’نعت رنگ‘‘ یا سیرت و ’’نعت رنگ‘‘ بنانے کے
لیے اپنی صلاحیتیں وقف کردے۔ اور جس شاعر کی نوا مُردہ و افسردہ و بے ذوق ہوچکی ہے
اس کی خودی کی تلوار کو تیز کر کے اپنا ہم نوا بنا سکے تاکہ چمنستانِ نعتِ مصطفیٰﷺ
میں صرف ایک بلبل ہی محو ترنم نہ رہے بلکہ ہر طرف سے غیرتِ مسلم کو زندہ و بیدار
کرنے والے نغمے سنانے والے ملتے جائیں اور کارواں بنتا جائے اور کاروانِ اُمتِ
مصطفیٰﷺ کی عظمتِ رفتہ کے نقوش اور شوکت و سطوت کے آثار مٹانے والوںسے نعت کی
تلوار لے کراعلانِ جہاد کریں۔
اس اُمت کا سرمایۂ افتخار
لوٹنے والوں کا احتساب کریں اس کی صفوں میں افتراق و انتشار پیدا کرنے والوں کو
ادب کی لگام ڈالیں۔ اس اُمت کے جسدِ واحد کو متحد و متحرک رکھنے والی روحِ محمدیﷺ
کے دشمنوں کو تلاش کرکے اُمت کے سامنے بے نقاب کریں اور اس اُمت کو راکھ کا ڈھیر
بنانے والوں کی ہر سازش ناکام بنا دیں اور ایسے افراد کو، ان کے اسباب کو اور
گلشنِ اُمت کے لیے نقصان دہ عناصر کو پنپنے کی اجازت دینے والے باغبانوں اور ذمّے
داروں کی غفلتوں کو دُور کرکے پھر سے اُمت کی پاسبانی اور باغ بانی کا کام کرنے کے
لیے عزم پیدا کریں اور حرم کی پاکیزہ مٹی اور مدَنی چشموں اور کنوؤں کا شیریں
پانی ڈال کر اس کی بہارِ تازہ کا سامان کرنے کی فکر اور ذوقِ جستجو عام کریں۔
لوٹنے والوں کا احتساب کریں اس کی صفوں میں افتراق و انتشار پیدا کرنے والوں کو
ادب کی لگام ڈالیں۔ اس اُمت کے جسدِ واحد کو متحد و متحرک رکھنے والی روحِ محمدیﷺ
کے دشمنوں کو تلاش کرکے اُمت کے سامنے بے نقاب کریں اور اس اُمت کو راکھ کا ڈھیر
بنانے والوں کی ہر سازش ناکام بنا دیں اور ایسے افراد کو، ان کے اسباب کو اور
گلشنِ اُمت کے لیے نقصان دہ عناصر کو پنپنے کی اجازت دینے والے باغبانوں اور ذمّے
داروں کی غفلتوں کو دُور کرکے پھر سے اُمت کی پاسبانی اور باغ بانی کا کام کرنے کے
لیے عزم پیدا کریں اور حرم کی پاکیزہ مٹی اور مدَنی چشموں اور کنوؤں کا شیریں
پانی ڈال کر اس کی بہارِ تازہ کا سامان کرنے کی فکر اور ذوقِ جستجو عام کریں۔
جس شعر سے ہوتی نہیں شمشیر
خودی تیز
خودی تیز
آج اگرہم مقامی، قومی اور
انٹرنیشنل محفلِ نعت کی صورتِ حال پرغور کریں کہ اگر ہمارے نعتیہ مشاعروں اور
محافلِ نعت سے فرد میں بیداریِ شعور، قوم میں اصلاحِ احوال اور اُمت کا اجتماعی
دینی فلاحی مقاصد کی طرف سفر شروع نہیں ہوتا تو پھران مقامی،قومی اور عالمی سطح پر
محافلِ نعت پر اُٹھنے والے کروڑوں کے اخراجا ت کا حاصل بجز ثوابِ اخروی کے اَور
کیاہے؟
انٹرنیشنل محفلِ نعت کی صورتِ حال پرغور کریں کہ اگر ہمارے نعتیہ مشاعروں اور
محافلِ نعت سے فرد میں بیداریِ شعور، قوم میں اصلاحِ احوال اور اُمت کا اجتماعی
دینی فلاحی مقاصد کی طرف سفر شروع نہیں ہوتا تو پھران مقامی،قومی اور عالمی سطح پر
محافلِ نعت پر اُٹھنے والے کروڑوں کے اخراجا ت کا حاصل بجز ثوابِ اخروی کے اَور
کیاہے؟
اور اس کا معنی یہ ہوگا کہ
نعت گو شعرانے عہدِ نبویﷺ سے مقاصدِ نعت کو کشید کرکے آج کے دور کے دکھوں کا مداوا
کرنے کے لیے خوب صورتی سے نظم دینے اورشعر کو حیات بخش بنانے کے لیے اپنا جگر خون
نہیںکیا اور نعت خوانان حضرات نے اپنے دل کو ذاتی و محدود اغراض سے پاک کرکے اُمت
کی حالتِ زارکے درد و سوز کو دل سے اُٹھاکر آواز کیذریعے اُمت کے جذبات اور
سماعتوں کو متاثرکرنے کی کوشش و توجہنہیں کی، بلکہ اپنے معاشی و ذاتی غموں کا
مداوا کرنے کو ہی اپنا مقصد بنا کر حجاب میں ہیں اور محافلِ نعت کا انتظام کرنے
والوں نے بھی وقتی لذت اور دینی شہرت کی خاطر مزید اصلاحِ اُمت کو ترجیحی مقصد
نہیں بنایا اور سننے والوں نے بھی دنیاوی کاموں سے فرصت نہ ہونے کی وجہ سے دل کی
دنیا آباد کرنے اور اپنی اصلاحِ احوال کی طرف زیادہ شوق اور فکر کو نہیں دوڑایا۔
یعنی ہم سب نے اصل مقصد سے ر خ پھیر رکھا ہے۔ (الا ماشاء اللہ)
نعت گو شعرانے عہدِ نبویﷺ سے مقاصدِ نعت کو کشید کرکے آج کے دور کے دکھوں کا مداوا
کرنے کے لیے خوب صورتی سے نظم دینے اورشعر کو حیات بخش بنانے کے لیے اپنا جگر خون
نہیںکیا اور نعت خوانان حضرات نے اپنے دل کو ذاتی و محدود اغراض سے پاک کرکے اُمت
کی حالتِ زارکے درد و سوز کو دل سے اُٹھاکر آواز کیذریعے اُمت کے جذبات اور
سماعتوں کو متاثرکرنے کی کوشش و توجہنہیں کی، بلکہ اپنے معاشی و ذاتی غموں کا
مداوا کرنے کو ہی اپنا مقصد بنا کر حجاب میں ہیں اور محافلِ نعت کا انتظام کرنے
والوں نے بھی وقتی لذت اور دینی شہرت کی خاطر مزید اصلاحِ اُمت کو ترجیحی مقصد
نہیں بنایا اور سننے والوں نے بھی دنیاوی کاموں سے فرصت نہ ہونے کی وجہ سے دل کی
دنیا آباد کرنے اور اپنی اصلاحِ احوال کی طرف زیادہ شوق اور فکر کو نہیں دوڑایا۔
یعنی ہم سب نے اصل مقصد سے ر خ پھیر رکھا ہے۔ (الا ماشاء اللہ)
سوچیں اگر ان سب کوششوں کے
باوجوداصل منزل کی طرف قدم نہیں بڑھ رہے تو پھرہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ اس
نعت گوئی اور نعت خوانی نے کتنے دلوں کے اور روحوں کے زنگ دُور کیے ہیں؟
باوجوداصل منزل کی طرف قدم نہیں بڑھ رہے تو پھرہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ اس
نعت گوئی اور نعت خوانی نے کتنے دلوں کے اور روحوں کے زنگ دُور کیے ہیں؟
کاش سیّد صبیح الدین صبیح
رحمانی صاحب کی طرح یہ صورتِ حال دیکھ کر بھی کسی فاضل شاعر و ادیب کی روح تڑپ
اُٹھے اور ایک مؤثر علمی و عملی تحریکِ نعتِ رسولﷺ پیدا ہوجائے اور نعت کو روایتی
انداز اورمحدود مقاصد کے ذریعے ذاتی شہرت و نفع اندوزی سے اُٹھا کر عظیم علمی و
ادبی روایات، عملی و معاشرتی اصلاح کے نظریات اور جہادی و تحریکی جذبات جیسے بلند
مقاصد کے احیا تک پہنچانے کے لیے اجتما ع ا دبی اور معاشرتی جدوجہد کا آغاز کر دے۔
یقینا حق تعالیٰ کی ظاہری و باطنی قوتیں ایسے مخلصین نعت گو شعرا کی مدد و نصرت کے
لیے ہر طرف سے قطار اندر قطار اُتر کر آنے کے لیے آج بھی مائل بہ کر م ہیں اور
ہوںگی، اگر وہ کامل اخلاصِ نیت اور غلامانِ مصطفیٰﷺ کی تمام قوتوں کو متحد کرکے
صحیح سمت پر نکل کھڑے ہونے کی کوشش شروع کردیں تاکہ صرف خود کو ہی عقلِ کُل اور
مستحقِ قیادت سمجھ کر خدمتِ دین کے نام پر اُمت مسلمہ کو تقسیم در تقسیم کرکے
داخلی طور پر دوریاں اور جدائیاں بڑھانے میں مسلمانوں کی توانائیوں پر عیش کرتے
کرتے عمر گزار کر آںجہانی ہوجائیں اور آگے جا کر جب حساب ہوگا کہ اس خدا داد منصبِ
نعت اور نعمت شعور کو کس راہ پر خرچ کیا ہے، تو کیا جواب بن پائے گا؟
رحمانی صاحب کی طرح یہ صورتِ حال دیکھ کر بھی کسی فاضل شاعر و ادیب کی روح تڑپ
اُٹھے اور ایک مؤثر علمی و عملی تحریکِ نعتِ رسولﷺ پیدا ہوجائے اور نعت کو روایتی
انداز اورمحدود مقاصد کے ذریعے ذاتی شہرت و نفع اندوزی سے اُٹھا کر عظیم علمی و
ادبی روایات، عملی و معاشرتی اصلاح کے نظریات اور جہادی و تحریکی جذبات جیسے بلند
مقاصد کے احیا تک پہنچانے کے لیے اجتما ع ا دبی اور معاشرتی جدوجہد کا آغاز کر دے۔
یقینا حق تعالیٰ کی ظاہری و باطنی قوتیں ایسے مخلصین نعت گو شعرا کی مدد و نصرت کے
لیے ہر طرف سے قطار اندر قطار اُتر کر آنے کے لیے آج بھی مائل بہ کر م ہیں اور
ہوںگی، اگر وہ کامل اخلاصِ نیت اور غلامانِ مصطفیٰﷺ کی تمام قوتوں کو متحد کرکے
صحیح سمت پر نکل کھڑے ہونے کی کوشش شروع کردیں تاکہ صرف خود کو ہی عقلِ کُل اور
مستحقِ قیادت سمجھ کر خدمتِ دین کے نام پر اُمت مسلمہ کو تقسیم در تقسیم کرکے
داخلی طور پر دوریاں اور جدائیاں بڑھانے میں مسلمانوں کی توانائیوں پر عیش کرتے
کرتے عمر گزار کر آںجہانی ہوجائیں اور آگے جا کر جب حساب ہوگا کہ اس خدا داد منصبِ
نعت اور نعمت شعور کو کس راہ پر خرچ کیا ہے، تو کیا جواب بن پائے گا؟
میں گدا ہوں اپنے کریم کا
میرا دین پارۂ ناں نہیں
میرا دین پارۂ ناں نہیں
موجودہ صورتِ حال کی اصلاح
کے لیے ضروری ہے کہ پہلے فروغِ نعت کے اہم اور زندہ مقاصد سب کے لیے واضح کیے
جائیں ’’نعت رنگ‘‘کے اس معیاری ادبی پلیٹ فارم پر مکمل علمی و فکری اور عملی و
تحریکی تحقیق کا ذوق رکھنے والے احباب کی توجہ اس عظیم انقلابی ادبی مقصد کی طرف
مبذول کروا کر تحقیقی آرا اکھٹی کی جائیں۔ کام کا آغاز علمی و عملی طور پر ہمہ جہت
اور ہمہ گیر ہونا چاہیے۔ پھر ہر ہر شعبۂ زندگی میں سے پُر امن طریقے سے عملی کام
کرنے والے عاشقانِ رسولﷺ کو تلاش کرکے مؤثر رابطہ کے لیے فہرست تیار کرلی
جائے۔پھر ایک شہر، ایک صوبہ یا ایک ملک یعنی پاکستان کی سطح سے کام شروع کیاجائے۔ تعلیمی نصاب مرتب کرنے والوں سے
لے کر اساتذہ کی تربیت، طرزِتعلیم و تدریس، دینی طرزِ فکر و انسانی تصورات کے
سانچے، تعلیمی و معاشرتی سطح پر قومی و ملی ہیروز کا تصور، گھر، خاندان، اسکول،
حال اور مستقبل، ہماری تاریخ، ہماری ملّی اقدار، ہمارے عروج کے دنوں اور ذلّت کے
اسباب الغرض ان سب میں نعت کے ذریعے روحِ محمدی علیٰ صاحب ا الصلوٰۃ و السلام کی
تازہ بہار پھونک دی جائے۔ سب راستے ایک ہی سمت کو لیجانے والے اور بلانیوالے ہوں
اور تمام
کے لیے ضروری ہے کہ پہلے فروغِ نعت کے اہم اور زندہ مقاصد سب کے لیے واضح کیے
جائیں ’’نعت رنگ‘‘کے اس معیاری ادبی پلیٹ فارم پر مکمل علمی و فکری اور عملی و
تحریکی تحقیق کا ذوق رکھنے والے احباب کی توجہ اس عظیم انقلابی ادبی مقصد کی طرف
مبذول کروا کر تحقیقی آرا اکھٹی کی جائیں۔ کام کا آغاز علمی و عملی طور پر ہمہ جہت
اور ہمہ گیر ہونا چاہیے۔ پھر ہر ہر شعبۂ زندگی میں سے پُر امن طریقے سے عملی کام
کرنے والے عاشقانِ رسولﷺ کو تلاش کرکے مؤثر رابطہ کے لیے فہرست تیار کرلی
جائے۔پھر ایک شہر، ایک صوبہ یا ایک ملک یعنی پاکستان کی سطح سے کام شروع کیاجائے۔ تعلیمی نصاب مرتب کرنے والوں سے
لے کر اساتذہ کی تربیت، طرزِتعلیم و تدریس، دینی طرزِ فکر و انسانی تصورات کے
سانچے، تعلیمی و معاشرتی سطح پر قومی و ملی ہیروز کا تصور، گھر، خاندان، اسکول،
حال اور مستقبل، ہماری تاریخ، ہماری ملّی اقدار، ہمارے عروج کے دنوں اور ذلّت کے
اسباب الغرض ان سب میں نعت کے ذریعے روحِ محمدی علیٰ صاحب ا الصلوٰۃ و السلام کی
تازہ بہار پھونک دی جائے۔ سب راستے ایک ہی سمت کو لیجانے والے اور بلانیوالے ہوں
اور تمام
بُری راہوں سے خبردار کرکے
بچانے والے ہوں تو ہم انسانی زندگیوں پر نعت کے گہرے اثرات اور اس کیبرکات سے عملی
تبدیلیاں دیکھ سکتے ہیں۔
بچانے والے ہوں تو ہم انسانی زندگیوں پر نعت کے گہرے اثرات اور اس کیبرکات سے عملی
تبدیلیاں دیکھ سکتے ہیں۔
ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ
ہماری کم نگاہی کی وجہ سے انھی مذکور ہ بالامحاذوں پرمعاشرے کے منفی مؤثرات کے
چھا جانے کی وجہ سے رفتہ رفتہ دینی مؤثرات غیرمؤثر ہوتے چلے گئے، جس سے آج ہمیں
یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں کہ عشقِ سرکارِ دوعالمﷺ کی شمع کو بجھانے والے ہمارے
گھروں، مسجدوں، مدرسوں،تعلیمی اداروں، کالجوں و یونی ورسٹیوں، میڈیا اور ملکی سطح
پر ہر طرف سے زہر آلود پھونکوں کے ساتھ اس شمعِ محبتِ رسولﷺ کو بجھانے کی سر توڑ
کوشش کر رہے ہیں اور نورِخدا ان کی کافرانہ حرکتوں اور ہماری مسلسل غفلتوںپر ضرور
خندہ زن ہو رہا ہوگا۔ آج مقابلہ عالمی سطح پر جس طرح ایٹم کا ایٹم سے اور جدید سائنسی
علم کا علم سے ہے اسی طرح انسانی مؤثرات کی سطح پر سریلی آواز کا مقابلہ پُرسوز
آواز سے بھی ہے۔ کلام کی موسیقیت کا مقابلہ کلام سے ہے۔ سوزِجگر کا مقابلہ سوزِجگر
سے ہے۔ الغرض شاعر کا مقابلہ شاعر سے ہے، ادیب کا مقابلہ ادیب سے ہے، استاد کا
مقابلہ استاد سے ہے، علیٰ ہٰذا القیاس شیطان کا مقابلہ ایمان سے ہے۔ لہٰذا
عہدِنبویﷺ میں ایسے ہی محاذوں پر بالخصوص نعت کے محاذ پر جیسی سریلی آوازوں،
جگرِسوز کلام کی صلاحیتوں والے نعت گو شاعروں کو جن جن مقاصد کے حصول کے لیے حضور
آئینۂ جمالِ خداوندیﷺ نیزندگی کے ہر گوشے کو منور اور متحرک کرنے کے لیے ان
مؤثرات کو استعمال کیا، انھی روشن خطوط پر پھر کا م کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کے نعت
گو شعراے اکرام اگر اہلِ دول کی مدا ح سرائی کرنے میں عمر ضائع کرنے کی بجائے
فرزوؔق شاعر کی طرح کعبۃاللہ کو گواہ بنا کر حکمرانی کے نشے میں بدمست حکمرانوں،
جاگیرداروں اور حکومتی منصب داروں کو نسبتِ رسالت مآبﷺ کی عزت و عظمت یا د کروانے
اور جہادِ اکبر کرنے کا فریضہ انجام دینا شروع کریں تو یقینا فرزوؔق شاعرکی طرح
انہیں بھی دنیا و آخرت کی نعمتوں و عزت کی کمی نہیں رہے گی اور قید ِحیات کے یہ دن
رات یونہی بے کیف نہیں گذریں گے۔ پھر اسی طرح بقول مولانا محمدعلی جوہر ماحول یوں
بدل جائے گا۔
ہماری کم نگاہی کی وجہ سے انھی مذکور ہ بالامحاذوں پرمعاشرے کے منفی مؤثرات کے
چھا جانے کی وجہ سے رفتہ رفتہ دینی مؤثرات غیرمؤثر ہوتے چلے گئے، جس سے آج ہمیں
یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں کہ عشقِ سرکارِ دوعالمﷺ کی شمع کو بجھانے والے ہمارے
گھروں، مسجدوں، مدرسوں،تعلیمی اداروں، کالجوں و یونی ورسٹیوں، میڈیا اور ملکی سطح
پر ہر طرف سے زہر آلود پھونکوں کے ساتھ اس شمعِ محبتِ رسولﷺ کو بجھانے کی سر توڑ
کوشش کر رہے ہیں اور نورِخدا ان کی کافرانہ حرکتوں اور ہماری مسلسل غفلتوںپر ضرور
خندہ زن ہو رہا ہوگا۔ آج مقابلہ عالمی سطح پر جس طرح ایٹم کا ایٹم سے اور جدید سائنسی
علم کا علم سے ہے اسی طرح انسانی مؤثرات کی سطح پر سریلی آواز کا مقابلہ پُرسوز
آواز سے بھی ہے۔ کلام کی موسیقیت کا مقابلہ کلام سے ہے۔ سوزِجگر کا مقابلہ سوزِجگر
سے ہے۔ الغرض شاعر کا مقابلہ شاعر سے ہے، ادیب کا مقابلہ ادیب سے ہے، استاد کا
مقابلہ استاد سے ہے، علیٰ ہٰذا القیاس شیطان کا مقابلہ ایمان سے ہے۔ لہٰذا
عہدِنبویﷺ میں ایسے ہی محاذوں پر بالخصوص نعت کے محاذ پر جیسی سریلی آوازوں،
جگرِسوز کلام کی صلاحیتوں والے نعت گو شاعروں کو جن جن مقاصد کے حصول کے لیے حضور
آئینۂ جمالِ خداوندیﷺ نیزندگی کے ہر گوشے کو منور اور متحرک کرنے کے لیے ان
مؤثرات کو استعمال کیا، انھی روشن خطوط پر پھر کا م کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کے نعت
گو شعراے اکرام اگر اہلِ دول کی مدا ح سرائی کرنے میں عمر ضائع کرنے کی بجائے
فرزوؔق شاعر کی طرح کعبۃاللہ کو گواہ بنا کر حکمرانی کے نشے میں بدمست حکمرانوں،
جاگیرداروں اور حکومتی منصب داروں کو نسبتِ رسالت مآبﷺ کی عزت و عظمت یا د کروانے
اور جہادِ اکبر کرنے کا فریضہ انجام دینا شروع کریں تو یقینا فرزوؔق شاعرکی طرح
انہیں بھی دنیا و آخرت کی نعمتوں و عزت کی کمی نہیں رہے گی اور قید ِحیات کے یہ دن
رات یونہی بے کیف نہیں گذریں گے۔ پھر اسی طرح بقول مولانا محمدعلی جوہر ماحول یوں
بدل جائے گا۔
تنہائی کے سب دن ہیں،
تنہائی کی سب راتیں
تنہائی کی سب راتیں
اب ہونے لگیں اُن سے خلوت
میں ملاقاتیں
میں ملاقاتیں
ہر لحظہ تشفی ہے، ہر آن
تسلی ہے
تسلی ہے
ہر وقت ہے دل جوئی، ہر د م
ہیں مداراتیں
ہیں مداراتیں
کوثر کے تقاضے ہیں، تسنیم
کے و عدے ہیں
کے و عدے ہیں
ہر روز یہی چرچے، ہر روز
یہی باتیں
یہی باتیں
معراج کی سی حاصل سجدوں میں
ہے کیفیت
ہے کیفیت
اک فاسق و فا جر میں اور
ایسی کراماتیں
ایسی کراماتیں
بے مایہ سہی لیکن شاید وہ
بلا بھیجیں
بلا بھیجیں
بھیجی ہیں دُرودوں کی کچھ
ہم نے بھی سوغاتیں
ہم نے بھی سوغاتیں
اور اسی طرح نعت خوان حضرات
بھی اگر چند پارۂ نان کی خاطر محفلِ نعت کے منتظمین کی طرف نظریں اُٹھا کر
دیکھنے اور نعت خوانی کے
منصب تبلیغ عشق رسولﷺ کو بدنام کرنے کی بجائے تاج دارِ مدینہﷺ کے مبارک کاندھوں
پر ناز سے جھولنے والی کالی کملی یا بردۂ یمنی پر نظریں جما کر مدحِ ممدوح یزداںﷺ
کی سعادت حاصل کریں تو یقینا حضرت حسان و بوصیری کی پیروی کرنے والے غلاموں کی
صفوں میں اُن کا نام بھی آسکتاہے اور اگر نعت گوئی اور نعت خوانی کے مقام کا صحیح
شعور نصیب ہو جائے تو یہ اعزاز دنیا کے تمام اعزازوں سے جتنا بلند ہے اُتنا ہی اسے
حاصل کرنا کوئی آسان کام بھی نہیں ہے۔
بھی اگر چند پارۂ نان کی خاطر محفلِ نعت کے منتظمین کی طرف نظریں اُٹھا کر
دیکھنے اور نعت خوانی کے
منصب تبلیغ عشق رسولﷺ کو بدنام کرنے کی بجائے تاج دارِ مدینہﷺ کے مبارک کاندھوں
پر ناز سے جھولنے والی کالی کملی یا بردۂ یمنی پر نظریں جما کر مدحِ ممدوح یزداںﷺ
کی سعادت حاصل کریں تو یقینا حضرت حسان و بوصیری کی پیروی کرنے والے غلاموں کی
صفوں میں اُن کا نام بھی آسکتاہے اور اگر نعت گوئی اور نعت خوانی کے مقام کا صحیح
شعور نصیب ہو جائے تو یہ اعزاز دنیا کے تمام اعزازوں سے جتنا بلند ہے اُتنا ہی اسے
حاصل کرنا کوئی آسان کام بھی نہیں ہے۔
بقولِ حضرت حسان بن ثابت
رضی اللہ عنہ:
رضی اللہ عنہ:
فان ابی ووالدتی و عرضی
لعرض
لعرض
محمد منکم و
قائـ
قائـ
اور بقولِ راقم:
جس کا ہر وقت لگا دھیان
مدینہ میں رہے
مدینہ میں رہے
وہ جہاں پر بھی ہے انسان
مدینہ میں رہے
مدینہ میں رہے
نہیں آساں صفِ حسّاں میں
جگہ جیلانی
جگہ جیلانی
جان و دل جس کے ہوں قربان
مدینہ میں رہے
مدینہ میں رہے
نعت رسول اعظم ﷺ : ایک پیغام ۔۔۔ایک تحریک
Reviewed by WafaSoft
on
July 27, 2019
Rating:


No comments: