میرادل میری جاں تو مدینے میں ہے
لطف کیا دور آقا اسے جینے میں
عطروعنبر کی سانسیں مہکنے لگیں
ایسی مہکار ان کے پسینے میں ہے
لب پہ نام نبی ہے میں دریامیں ہوں
اور طوفان میرے سفینے میں ہے
دست یزداں کی انگشتری میں ہے جو
روحِ پیغمبری اس نگینے میں ہے
غیرممکن ہے حافظ بھلانا انہیں
یاد آقا کی دل بن کے سینے میں ہے
حافظ کرناٹکی
میرادل میری جاں تو مدینے میں ہے
Reviewed by WafaSoft
on
July 28, 2019
Rating:


No comments: