ابرارکرتپوری سے ادبی مکالمہ
مصاحبہ گو؛غلام ربانی فداؔ
؛ آپ علمی ومذہبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں اختصارکے ساتھ پس منظر بیان کیجئے؟
٭ ہمارے وطن کرتپور ایک تاریخی بستی ہے۔اکبربادشہ کے زمانے میں ہمارے خاندان (جس میںمفتی صاحبان اور قاضی صاحبان شامل ہیں)کوفضاوۃ کے ساتھ جائیداد صحرائی وسکنائی عطاہوئی۔کئی حضرات علمی کاموںمیںمصروف رہتے تھے۔
÷ آپ کے بزگوں میں کیاشاعر بھی ہوتے ہیں؟ اختصار کے ساتھ بتایئے؟
٭ فداؔ صاحب ! ہمارے بزرگوںمیں شاعر تو ہوئے ہیں۔ہمارے ایک دادا فارسی شاعر تھے۔ان کے ایک بیٹے قاضی امداد حسین امدادؔطنزح ومزاح کے شاعر تھے۔اللہ ہمارے ایک چچا مولیٰنا قاضی سجاد حسین عربی وفارسی کے بہت بڑے عالم،مدرسہ عربیہ عالیہ کے پرنسپل اورشیخ الحدیث تھے۔انہوںنے گلستاں،بوستاں،دیوانِ حافظ اورمثنوی مولاناروم اردوترجمہ کیااور حواشی لکھے جوبر صغیر میں مقبول ہیں۔
÷ جب آپ نعت گوئی کی طرف متوجہ ہوئے تو سب سے پہلے کہی گئی نعت کامطلع اور مقطع پیش فرمائیں؟
٭ سترکی دہائی میں مظفر وارثی (لاہور) کی نعتیہ شاعری سے متاثر ہوا۔اورپھررحجان صرف حمدونعت کی طرف ہوگیا۔پہلی نعت کے دواشعاپیش ہیں۔یہ نعت پاکستان لاہورکے گورنمنٹ کالج کے مجلہ ۔۔اوج نے انتخاب کی تھی۔مطلع اس طرح تھا۔ ؎ہیںمعطرجان ودل ازبوئے دوست/ رشکِ جنت ہے فضائے بوسئے دوست
اس سے پوچھو فلسفہ دن رات کا/جس نے دیکھے ہوںرخ وگیسوئے دوست
÷ آپ کی شاعری میں کن اساتذہ نے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں؟
٭ میںنے بہت سے بزرگ شعراء کاکلام پڑھااورسناہے۔یہ حقیقت ہے کہ ہمارے بزرگ شعراء نے اتناکچھ کہہ دیاہے۔جوہمارے لیے مشعلِ راہ ہے،جہاںتک کہ یہ سوال کہ میرے کلام یاشاعری میںکن حضرات اساتذہ کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں،تویہتو میرے کلام پڑھنے والوںکوفیصلہ کرناہے کہ میری شاعری میں کون سے شعراء کے اثرات نظر آتے ہیں۔
÷ نعت نگاری کافن کارگہہِ شیشہ گری ہے۔آپ اس فن سے کس طرح سرخروہوئے؟
٭ نعت گوئی در حقیقت نہایت نازک ترین عمل ہے،ہمارے بزرگوںنے اسے پل صراط پرچلنے اورتلوار کی دھار پرچلنے کے مترادف
قراردیاہے۔کہ شاعرذراچوکااورقعرمذلت میںگرا۔توحیدورسالت سے فرق کو سمجھناایک شاعر کے لیے نہایت ضروری ہے۔ حضورسرورکائناتﷺ کی مدح وثنا کرتے وقت تکریم بعدازخدابزرگ توئی قصہ مختصر کو پیش نظر رکھیں دراصل نعت گوئی حقیقت نگاری کا عمل ہے۔جواس بات کاخیال رکھے گا ۔۔سرخروہوگا۔میں اس سلسلے میں کہاں تک کامیاب ہوں ۔یہ میرے کلام کا مطالعہ کرنے کے بعد قارئین کو فیصلہ کرناہے۔
سماعتوں پہ کرم بے حساب ہوتاہے
ادب کہ ذکرِرسالتمآب ہوتاہے
توصیفِ محمدکی تخئیل کوکسک دے
یارب مرے الفاظ کوپھولوںکی مہک دے
حضورسرورکائنات ﷺ کی ذاتِ والا صفات اتنی عظیم ہے کہ آپ کی مدح وثنا خود رب العالمین نے فرمائی ہے۔لیکن اس کے باوجود حمدونعت کے فرق کو قائم رکھناشاعرکا اعزازہیشاعری کا اعتبار
÷ کیاآپ شعرکہنے کے بعد اسے باربار پڑھتے ہیں یاپھر شائع کرتے ہیں؟
٭ میرا یہ عمل رہتاہے کہ جوکلام میںکہتاہوںاس کوفائنل نہیںسمجھتا۔وہ کلام جب باربار نظرسے گزرتے ہیںاوراس میںترمیم ہوسکتی ہے توضرورکرتاہوں مزید بہتری کے لیے ترمیم میں کوئی حرج نہیں۔شائع ہونے کے بعدبھی بہتری کے لیے ترمیم کی جاسکتی ہے
÷کیاشاعری کے لیے عشق ضروری ہے؟ کیاآپ بھی اس فطری جذبے سے مغلوب ہوچکے ہیں؟
٭تخلیق کارکواپنی تخلیقات سے محبت ہوناایک فطری چیزہے ،محبت کاجذبہ جب عشق بنتاہے توشاعری میںآمدکی کیفیات کانزول ہوتاہے،دراصل بقول مخموردہلی ؎
محبت کے لیے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں
یہ وہ نغمہ ہے جوہرسازپرگایانہیںجاتا
جذبۂ عشق کاغلبہ سے شاعری میںکیفیات سحرآفریں درآتی ہیں۔اب آپ ہی فیصلہ کیجئے اچھی شاعری کے لیے عشق ضروری ہے یانہیں؟درصورت ایں اس فطری جذبہ سے مغلوب ہونابھی لازم ہے۔سچ تویہ ہے کہ عشق رسول ﷺ نعتیہ شاعری کی بنیاد ہے رسول ﷺ کی محبت کے بغیرنعتیہ شاعری نہیںہوسکتی۔
÷ آپ نے اردووفارسی کاگیان بھی حاصل کیاہے؟وہ اساتذہ اور کتابیں کون سی ہیںجنہوںنے آپ کو عروضی شعور عطاکیا؟
٭ اردوہویا فارسی ۔شاعری کے لیے موزونیِ طبع کا ہونانہایت ضروری ہے۔عروض ایسا علم ہے جو ہمیں بحورکے مطابق صحیح شاعری
اورموزوں اشعار کہنے کی رہنمائی کرتا ہے ۔طبع موزوںرکھنے والا اگرعروض داں بھی ہوجائے تو سونے پر سہاگہ ہوجاتاہے۔اردوشاعری میں علامہ اصدف حسین دہلوی،علامہ ابداحسنی گنوری،سحرعشق آبادی اور ڈاکٹر کمال احمد صدیقی حضرات نے کتابی شکل میں سرمایہ چھوڑآئے جوطالب علمی کی رہنمائی کررہاہے۔
÷کیاآپ کے تلامذہ بھی ہیں؟ کچھ نام بتائیں۔
٭تلامذہ تو ہیں۔کچھ بااعلان اورکچھ پس پردہ۔قاضی ناصراحمد کرتپوری،یاسؔ چاندپوری،عازم ؔکوہلی، سکندرعاقلؔ، یہ حضرات دہلی میںرہتے ہیں
÷ نعت گوئی میں آپ نے کن کن ہئیتوںمیںیااقسامِ نظم میں طبع آزمائی کی ہے؟
٭ میںنے زیادہ ترنعتیںتو غزل کے فارم میںکہی ہیں۔ویسے نعتیہ مثنوی،رباعی،مسدس،آزادنظم،نظم،قطعات وغیرہ سبھی ہئیتوںمیںمیںنے طبع آزمائی کی ہے۔(نعتیہ کہی ہیں)
÷شعرگوئی جزوقتی عمل ہے یاہمہ وقتی؟
٭شعرگوئی کے لیے ایک خاص وقت،ماحول اور فکر درکار ہے۔لہذٰا مخصوص حالات میں ہی شعرگوئی ممکن ہے۔وقت بوقت نہیں،
÷نعت گوئی میں غلوکاسہوآپ کی رائے میں کیسا ہے؟
٭ غلوسہواََ نہیںقصداََ ہوتاہے۔نعت گوئی میںغلوکی گنجائش نہیں ہے۔یہ نعت کی پاکیزگی کو مجروح کردیتاہے۔
÷ جب آپ اداس ہوتے ہیں توکیاکرتے ہیں؟
٭ حمدونعت ترنم سے پڑھنااداسی کابہترین علاج ہے۔
÷ جب آپ جوش میں ہوتے ہیںتوکیاکرتے ہیں؟
٭ ؎ اہلِ دل یہ سحروشام کیاکرتے ہیں
جوش میں ہوش سے بس کام لیاکرتے ہیں
÷ کیاآپ اپنی شاعری پر تنقید پسند کرتے ہیں؟
٭تنقید اگر صحت مند ہے تواس کو پسند کرناچاہئے۔
÷ہندوستان میںحمدونعت کا مستقبل کیساہے؟
٭یہ میرے آقاﷺ کا زندہ معجزہ ہے کہ آج عالمی طورپر نعت گوئی کوجوفروغ حاصل ہوا ہے۔کبھی نہ ہواتھا بلکہ اس میںروزافزوں اضافہ ہورہاہے۔رحمت اللعالمین ﷺ کی مدح وثنا میں غیر مسلم حضرات بھی پیش پیش ہیں۔اردو کے نامورشاعر جناب ڈاکٹر دھرمیندرناتھ ایک نہایت اہم کتاب شائع کررہے ہیںجس میں انہوں نے تقریباََ چارسو غیرمسلم شعرا کاکلام اکٹھا کیاہے،آج ریڈیو،ٹی وی،مشاعروںکیذریعہ نعتیہ کلام ہروقت سناجاسکتاہے۔نعت گوئی حضور سرورکائناتﷺ کی حیاتِ طیبہ میں ہی شروع ہوگئی تھی اور یہ سلسلہ صدیوں سے جاری وساری ہے۔آج بر صغیر میں حمدونعت کاسلسلہ بڑے اہتمام اور احترام سے جاری ہے۔اور اس میں روزافزوں اضافہ ہی ہورہاہے۔بے شمار مجموعے نعتیہ کلام کے شائع ہورہے ہیں۔وثوق سے کہاجاسکتاہے کہسلسلہ اور بڑھے گا ۔نعت گو ئی کا مستقبل بر صغیر ہی میں نہیں ۔ہندوستان ہی میں نہیں تمام عالم میں روشن ہے۔
÷ اگرآپ کو کسی ویران جزیرے میںبھیج دیاجائے توکن کن چیزوںکوساتھ لیجاناپسندکریںگے؟
٭ایسے موقعہ پر اگر مذہبی کتب بالخصوصی سیرتِ اقدس کی کتب،حمدونعت کی کتب ،قلم،دوات،کاغذ یہ سب چیزیںاگر ساتھ ہوںتوویرانی کااحساس نہیںہوسکتا۔
÷آپ نے دہلی میںحمدونعت اکیڈمی قائم کی ہے۔اس کے ذریعے آپ کیا خدمات انجام دے رہے ہیںاور اس کے ذریعے کیاپیغام دیناچاہتے ہیں؟
٭رسول اکرمﷺ کی محبت میںحمدونعت اکیڈمی کاقیام عمل میںآیا۔حمدونعت اکیڈمی کے اغراض ومقاصد میںپاکیزہ اصنافِ سخن حمدونعت
کی ترویج وترقی اور ان سے صحت مند تنقیدکاانتظام کروانااوران حضرات کی حوصلہ افزائی کرناہے جونثریانظم کے ذریعہ ان پاکیزہ اصنافِ سخن کے لیے خدمات دے رہے ہیں۔چنانچہ اکیڈمی نے جہاںطرحی حمدیہ ونعتیہ نشستیں منقعد کررہی ہے۔وہیں نعتیہ مشاعرے کیے ہیں اور ان حضرات کی حمدونعت کی خدمات کے اعتراف میںانعامات پیش آچکی ہے،اکیڈمی یہ بھی چاہتی ہے کہ ان حضرات کی حمدونعت سے متعلق کتب شائع کرائے جوخوداپنی کتب چھاپنے سے قاصرہیں۔یہ سب اسی وقت ممکن ہے کہ ہم اللہ ورسولﷺ کی اطاعت صدق دل سے کریں،حمدونعت اکیڈمی نئی دہلی کو یہ سب مزید بہترطورپر انجام دینے کے لیے سب حضرات کاتعاون درکار ہے
÷رسالہ جہان نعت کے سلسلے میں آپ کے کیاتاثرات ہیںاورقارئین کوکیاپیغام دیناچاہیں گے
٭جہان نعت کا م مبارک آغازہواہے ۔پہلا مجلہ پڑھنے کاموقعہ ملا۔آپ نے جس طرح یہ پاکیزہ مجلہ شروع کیاہے اس کو برقرار رکھئے بلکہ اس میں مزیداضافے (خوشگوار)اس کی اہمیت اورمقبولیت میںاضافہ کریںگے۔آپ کا جہان نعت پڑھ کر طبیعت خوش ہوگئی۔قارئین کرام سے درخواست ہے کہ جہان نعت جوواحدحمدونعت کامجلہ ہے اس کے خریدار بنیں تاکہ اس کو اور خوبصورت وبامقصد بنایاجاسکے۔ اس قسم کے مجلوں اورکتب کامطالعہ دنیاوعقبیٰ دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔
ابرارکرتپوری سے ادبی مکالمہ
Reviewed by WafaSoft
on
July 27, 2019
Rating:


No comments: