میں
نے کہی جونعت یہ مجھ پہ کرم ہوا
نے کہی جونعت یہ مجھ پہ کرم ہوا
خوشیوں
کے ڈھیر لگ گئے اوردور غم ہوا
کے ڈھیر لگ گئے اوردور غم ہوا
میرے
نبی پہ ختم ہوئیں ساری خوبیاں
نبی پہ ختم ہوئیں ساری خوبیاں
پہلے
نہ بعد میں ان سے کوئی محترم ہوا
نہ بعد میں ان سے کوئی محترم ہوا
آمد
نے ان کی ڈال دی توحٰد کی بنا
نے ان کی ڈال دی توحٰد کی بنا
بت
خانہ اپنی شکل بدل کر حرم ہوا
خانہ اپنی شکل بدل کر حرم ہوا
لکھتے
ہی ان کا نا م مہک اٹھیں انگلیاں
ہی ان کا نا م مہک اٹھیں انگلیاں
دل
اور ذہن دھل گئے روشن قلم ہوا
اور ذہن دھل گئے روشن قلم ہوا
حافظ
زمانے بھر نے ستم ڈھائے سینکڑوں
زمانے بھر نے ستم ڈھائے سینکڑوں
عشق
رسول اپنے دلوں میں نہ کم ہوا
رسول اپنے دلوں میں نہ کم ہوا
حافظ کرناٹکی
میں نے کہی جونعت یہ مجھ پہ کرم ہوا
Reviewed by WafaSoft
on
July 28, 2019
Rating:


No comments: