نعت
پاک
پاک
آپ
آئے تو مہک اٹھا بصیرت کا گلاب
آئے تو مہک اٹھا بصیرت کا گلاب
خُلق
کی خوشبو میں پوشیدہ ہے سیرت کا گلاب
کی خوشبو میں پوشیدہ ہے سیرت کا گلاب
شخصیت
کو آپ کی طہٰہ کہا فرقاں کہا
کو آپ کی طہٰہ کہا فرقاں کہا
آپ
ہیں سارے جہاں کے حق میں رحمت کا گلاب
ہیں سارے جہاں کے حق میں رحمت کا گلاب
آپ
کی طاعت میں پوشیدہ ہے رب کی بندگی
کی طاعت میں پوشیدہ ہے رب کی بندگی
فاَتَّبِعُوْنِیْمیں
پنہاں ہے اطاعت کا گلاب
پنہاں ہے اطاعت کا گلاب
آپ
آئے تو جہالت کے اندھیرے مٹ گئے
آئے تو جہالت کے اندھیرے مٹ گئے
مل
گیا ہے نسلِ آدم کو ہدایت کا گلاب
گیا ہے نسلِ آدم کو ہدایت کا گلاب
آپ
آئے تو زباں کو تابِ گویائی ملی
آئے تو زباں کو تابِ گویائی ملی
آپ
نے بخشا زمانے کو فصاحت کا گلاب
نے بخشا زمانے کو فصاحت کا گلاب
آپ
نے آکر بدل دی کفر و ظلمت کی فضا
نے آکر بدل دی کفر و ظلمت کی فضا
ہر
طرف کھلنے لگا دنیا میں وحدت کا گلاب
طرف کھلنے لگا دنیا میں وحدت کا گلاب
آپ
نے طائف کی وادی میں دعا یہ رب سے کی
نے طائف کی وادی میں دعا یہ رب سے کی
کھل
اٹھے ویران وادی میں بھی امّت کا گلاب
اٹھے ویران وادی میں بھی امّت کا گلاب
تیرگیِٔ
نسلِ آدمؑ نورِ حق سے مٹ گئی
نسلِ آدمؑ نورِ حق سے مٹ گئی
آپ
نے بتلایا کیا ہے آدمیّت کا گلاب
نے بتلایا کیا ہے آدمیّت کا گلاب
حضرتِ
صدیقؓ، فاروقؓ، اور عثمانؓ و علیؓ
صدیقؓ، فاروقؓ، اور عثمانؓ و علیؓ
سارے
ہی اصحاب پر یکساں تھا شفقت کا گلاب
ہی اصحاب پر یکساں تھا شفقت کا گلاب
عمر
بھر نعتِ نبی خوشدل ؔرہے لب پر ترے
بھر نعتِ نبی خوشدل ؔرہے لب پر ترے
یونہی
بس کھلتا رہے ہونٹوں پہ مدحت کا گلاب
بس کھلتا رہے ہونٹوں پہ مدحت کا گلاب
فرحت حسین خوشدلؔ
آپ آئے تو مہک اٹھا بصیرت کا گلاب
Reviewed by WafaSoft
on
July 27, 2019
Rating:


No comments: