رسالت
کے فلک پہ نیر اسلام روشن ہے
کے فلک پہ نیر اسلام روشن ہے
اسی
سے زندگی کی صبح روشن، شام روشن ہے
سے زندگی کی صبح روشن، شام روشن ہے
صحیفہ
آپ جولائے ہدایت کے لئے آقا!
آپ جولائے ہدایت کے لئے آقا!
ہمارے
طاقِ جاںمیں صورتِ انعام روشن ہے
طاقِ جاںمیں صورتِ انعام روشن ہے
ہمیں
بخشا ہے جوعرفانِ حق اس کے وسیلے سے
بخشا ہے جوعرفانِ حق اس کے وسیلے سے
بصیرت
کادریچہ ہے منوربام روشن ہے
کادریچہ ہے منوربام روشن ہے
سجی
ہیں ہونٹ کے ساحل پہ قندیلیں درودوںکی
ہیں ہونٹ کے ساحل پہ قندیلیں درودوںکی
مرے
دل کے ورق پرجب سے ان نام روشن ہے
دل کے ورق پرجب سے ان نام روشن ہے
جوان
کا نقش پا ہے ثبت عالم کے جریدے پر
کا نقش پا ہے ثبت عالم کے جریدے پر
مری
منزل کی راہوں میں وہی ہرکام روشن ہے
منزل کی راہوں میں وہی ہرکام روشن ہے
ہوئی
تھی ابتدا جس کی حراسے اے سعید اک دن
تھی ابتدا جس کی حراسے اے سعید اک دن
جہاںمیں
حشرتک وہ آخری پیغام روشن ہے
حشرتک وہ آخری پیغام روشن ہے
سعیدرحمانی
کٹک
کٹک
رسالت کے فلک پہ نیر اسلام روشن ہے
Reviewed by WafaSoft
on
July 28, 2019
Rating:


No comments: