راجندر نرائن سکسینہ بسملؔ شمس آبادی
(شخصیت اور نعتیہ شاعری کا مطالعہ)
ڈاکٹر سراج احمد قادری۔ بھارت
اردو کے عظیم شاعر و نقاد راجندر نرائن سکسینہ بسملؔ شمس آبادی کی ولادت ۱۷؍ نومبر ۱۹۲۰ء میں قصبہ شمس آباد، ضلع فرخ آباد کے ایک تعلیم یافتہ گھرانے میں دیوی چرن کے یہاں ہوئی۔ ان کے والد اردو اور فارسی کے ایک بہترین جانکار اور مہارت رکھنے والے عالم تھے، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ وہ اردو اور فارسی زبان پر کامل دست گاہ رکھتے تھے تو بے جا نہ ہوگا۔ اپنی علم دوستی کی بنا پر انھوںنے اپنے فرزندِ ارجمند راجندر نرائن سکسینہ کو اس وقت کے ماحول کے اعتبار سے حصولِ تعلیم کے لیے مکتب میں بٹھایا۔ بس یہیں سے بسمل شمس آبادی کی پرواخت کا سلسلہ شروع ہوا اور آگے چل کر انھوںنے اردو کے ایک عظیم شاعر و نقاد کی حیثیت سے اپنی عظمت کا اعتراف اربابِ علم و فضل سے کرایا۔
مکتب کی تعلیم کے بعد مزید ذوقِ وجدان کی پذیرائی کے لیے انھوںنے اپنا تعلیمی قدم آگے بڑھایا اور قصبہ ہی کے اینگلو ورناکیولر اسکول سے درجہ آٹھ تک تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد شعر کی بالیدگی اور علمی تجسّس نے ان کو شہر فرخ آباد پہنچا دیا۔ فرخ آباد کرسچین اسکول سے ہائی اسکول پاس کیا اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے اترپردیش کے مشہور شہر بریلی کا انتخاب کیا، جہاں سے ۱۹۴۰ء میں بی اے اور ۱۹۴۲ء میں قانون کی ڈگری حاصل کی۔
ابھی تعلیمی سلسلہ جاری ہی تھا کہ اسی اثنا میں رشتۂ ازدواجیت سے بھی بندھ گئے۔ ان کی شادی شہر بریلی کے مشہور و معروف شاعر و ادیب شام موہن لال جگر بریلوی کی منجھلی بیٹی شانتی دیوی سے ہوئی۔ چناںچہ وہ خود رشتۂ ازدواجیت سے منسلک ہونے کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں:
۱۹۴۱ء میں جب میں بریلی کالج میں طالب علم تھا۔ بریلی کے نام ور شاعر و ادیب شام موہن لال جگر بریلوی کی منجھلی دختر شانتی دیوی میری رفیقۂ حیات بنیں۔ جگر کیکلام کے مطالعے نے میرے خیالات کو ایک نیا روپ اور شعرگوئی کے دھارے کو ایک نیا موڑ دیا۔ جب تک وہ زندہ رہے میں نے انھیں سے اصلاح لی۔٭۱
راجندر نرائن سکسینہ کا تعلق جگر بریلوی سے ہونے کے بعد ان کی شعرگوئی نے وہ تب و تاب حاصل کی کہ مہرِ درخشاں کے مانند اردو
ادب کی تاریخ میں ان کا نام جگمگانے لگا اور اگر یہ کہا جائے کہ جگر بریلوی کی تربیت نے ان کو کندن بنا دیا تو غلط نہ ہوگا۔
راجندر نرائن سکسینہ بسمل شمس آبادی کی تعلیم و تربیت، ان کی اصلاح اور ان کے فن کو عروج و ارتقا وقت کی دو عظیم شخصیتوں نے دیا۔ اوّلاً ان کے والد بزرگوار دیوی چرن مرحوم دوسرے ان کے خسر شام موہن جگر بریلوی مرحوم۔ چناںچہ راجندر نرائن سکسینہ اپنے بچپن کے ماحول کو یاد کرکے اپنے والد کو خراجِ محبت پیش کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
’’میرے والد اردو، فارسی میں کافی دست گاہ رکھتے تھے۔ اکثر فارسی کے اشعار سناتے اور ان کا ترجمہ کرکے مجھے سمجھاتے۔ ان کی علم دوستی کا مجھ پر شروع ہی سے اثر پڑا۔٭۲
مَیں نے دورانِ تعلیم محسوس کیا کہ فارسی زبان سخن طرازی کے لیے اتنی لطیف ہے کہ اس کو بیان نہیں کیا جاسکتا جو الفاظ و معانی فارسی زبان کے پاس ہیں دنیا کی اور زبانوں کے پاس نہیں۔ خصوصاً شعرگوئی کے حوالے سے دلوں کی ترجمانی کرنے کے لیے جو الفاظ فارسی زبان میں مل جاتے ہیں وہ دنیا کی اور زبانوں کے پاس نہیں مل پاتے۔‘‘
راجندر نرائن سکسینہ کا مطالعہ فارسی زبان سے گہرائی و گیرائی کی حد تک ہونے کی وجہ سے ان کی شاعری دلوں کی ترجمانی کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔
انسان کا ذوق و تجسّس اور اس کا مطالعہ و مشاہدہ اس کو کامیابی کی طرف لیے جاتا ہے۔ بسمل شمس آبادی کے اندر شعرگوئی و شعر فہمی کی صلاحیت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ مزید ان کی تعلیم و تربیت نے ان کو کامیابی و کامرانی کے دہانے تک پہنچا دیا۔ زبان و ادب پر کسی قوم یا کسی ملک کا اجارہ نہیں ہوتا۔ اس پر ہر انسان کا برابر کا حق ہے چاہے وہ کسی ملک یا قوم سے تعلق رکھنے والا ہو۔ کسی بھی زبان یا ادب میں مقام و مرتبہ حاصل کرنے کے لیے اس کی اپنی کوشش و کاوش کافی ہوا کرتی ہے۔ دنیا کی ادبی و لسانی تاریخیں آج بھی ہمیں متنبہ کر رہی ہیں کہ اس میں اسی آدمی نے مقام و مرتبہ حاصل کیا، جس نے ذوق و تجسّس اور مطالعہ مشاہدہ کے بعد اس کی زلفِ پریشاں کو سنوارا ہے۔
بسمل شمس آبادی بذاتِ خود اردو کے ایک عمدہ شاعر ہیں۔ ان کا کلام غزلوں، نظموں، آزاد نظموں اور نعتیہ اشعار پر مشتمل ہے۔ انھوںنے بڑی عقیدت و محبت کے ساتھ بزرگانِ دین کی شان میں منقبتیں بھی تحریر فرمائی ہیں۔ انھوںنے سلام بھی تحریر کیے ہیں۔ اُن کے سلام کے اشعار بڑے ہی درد مند اور سوز و گداز کے حامل ہیں۔ ان کی نعتیں، منقبتیں اور سلام عظیم نعت گو شاعر مولانا احمد رضا خاں بریلوی، مولانا حسن رضا خاں بریلوی اور حفیظ جالندھری کی یاد دلاتے ہیں۔
اردو ادب کی جملہ اصنافِ شعرگوئی پر ان کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔ مَیں نے اُن کے اب تک شائع ہونے والے مجموعۂ کلام: (۱) گلِ صحرا (۲) زخمِ نہاں (۳)رستے چھالے (۴) خشتِ حرم کا بالاستیعاب مطالعہ کیا ہے۔ مَیں نے مطالعے سے پایا کہ اُن کی شعرگوئی اتنی ٹھوس اور مستحکم ہے کہ اردو ادب کے ماہرین کے لیے مجالِ انکار نہیں۔ مَیں نے مطالعے سے یہ بھی پایا کہ وہ اپنے نظریات میں اتنے راسخ ہیں کہ ان کو زمانے کی ہوائیں لرزہ براندام نہیں کرسکتیں۔ وہ جو بھی بات کہتے ہیں یا جو نظریہ پیش کرتے ہیں وہ بہت ہی ٹھوس اور ٹھوک بجا کر۔ جسے ہم اور آپ اپنی زبان میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ شاعر و ادیب کو اعلانِ حق کے لیے پیدا فرماتا ہے۔ جو بات مل کرپوری قوم نہیں کہہ سکتی اس بات کو شاعر شعر کے توسط سے بڑی چابک دستی سے کہہ کر گزر جاتا ہے اور لوگ تماشائی بنے رہ جاتے ہیں۔ اس کے ثبوت میں، میں بسمل شمس آبادی کا ایک شعر حیطۂ تحریر میں لانا چاہتا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں:
ہم نے سوچا ہے کہ سچ بات کہیںگے کچھ ہو
سامنے ہیں رسن و دار خدا خیر کرے٭۳
اسی نظریے کو ایک دوسرے شعر میں اس طرح تحریر فرماتے ہیں:
دل میں چبھتی ہے جو دن رات کہوں یا نہ کہوں
کش مکش میں ہوں وہ بات کہوں یا نہ کہوں٭۴
اور وہ حقیقت اس شعر میں آکر اور زیادہ نمایاں ہوگئی:
مَیں چاہتا نہیں تھا کہ لب اپنے وا کروں
لیکن ہر ایک تلخ حقیقت ہے کیا کروں٭۵
اس وقت میرا موضوع اُن کی نعتیہ شاعری ہے۔ اگر ان کی جملہ شعرگوئی میرا مطمحِ نظر ہوتی تو میں واضح کرتا کہ وہ قوم اور ملک کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں نیز اُن کی شاعری کس قدر اسرار و رموز سے لبریز ہے۔ وہ جب غزل کے پیرائے میں عشقِ حقیقی کی گفتگو کرتے ہیں تو دل وارفتہ ہوا جاتا ہے۔ جب ملک کی محبت میں ان کا قلم حرکت میں آتا ہے تو وہ ملک کے بہت بڑے دافع اور فدائی معلوم ہوتے ہیں اور جب وہ رہنمایانِ ملک سے ان کی بدعنوانیوں کے خلاف شکایت کرتے ہیں تو وہ ایک سچے مصلحِ قوم و وطن معلوم ہوتے ہیں۔
مَیں راجندر نرائن سکسینہ بسمل شمس آبادی کی مذہبی شاعری خصوصاً اسلامی نعتیہ شاعری کے مطالعے سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اُن کا اسلامیات کا مطالعہ بہت ہی وسیع و عمیق ہے۔ وہ اسلام کے جس بھی موضوع پر بھی قلم اُٹھاتے ہیں اُس کی روایت و اسناد کا خصوصی لحاظ رکھتے ہیں۔ مجال نہیں کہ وہ کسی غیرمعقول و منقول روایت کو اپنی شاعری کا موضوع بننے دیں۔ انھوںنے اپنے مجموعۂ کلام ’’خشتِ حرم‘‘ میں ایک حمد تحریر فرمائی ہے جس کا عنوان ہے ’’خالقِ کائنات کے حضور میں‘‘ اس حمد پاک کی خصوصیت جو مَیں نے محسوس کی ہے وہ یہ کہ اُس کا ایک ایک شعر ہمیں ربّ کائنات کی بارگاہ میں اس حیثیت سے پیش کرتا ہے جس طرح سے بندے کو اپنے مالک کے حضور حاضری دینا چاہیے۔ اس حمد پاک میں عجز و انکساری کا ایسا تصور پیش کیا گیا ہے جو اپنی مثال آپ ہے اور نفس الامر میں اسی تصور و خیال کے ساتھ ربّ کریم کی بارگاہ میں ایک انسان کو حاضری دینا چاہیے۔ بسمل ؔ نے مجھے ایک مکتوب کے ذریعے باخبر کیا کہ اُن کی اِس حمد پاک کو متحدہ امریکا میں لوگ وظیفے کے طور پر پڑھتے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:
اے خالقِ کون و مکاں
اے مالکِ ہر دوجہاں
ہے ذات تیری لافنا
ممکن نہیں تیری ثنا
ہر شے کی تجھ سے ابتدا
ہر شے کی تجھ پر انتہا
تو حسن عالم گیر ہے
ہر شے تیری تصویر ہے
جب تک نہ ہو مرضی تیری
ہلتا نہیں پتا کبھی
مظہر تیرے فرمان کی
آیات ہیں قرآن کی
اے مالکِ لوح و قلم
دے وہ مجھے تاب رقم
تیوہار ہوں وہ مذہبی
یا ذکرِ اوصافِ نبی
جب میں کروں اُن کا بیاں
قاصر نہ ہو میری زباں
ہر لفظ میں تاثیر ہو
ہر شعر میں تطہیر ہو
نورِ حقیقت سے بھرا
جوشِ عقیدت سے بھرا
اک عزم میرے ساتھ ہے
اب لاج تیرے ہاتھ ہے٭۶
راجیندر نرائن سکسینہ بسمل شمس آبادی نے اپنے تمام تر اسلامی کلام کو اپنے چوتھے مجموعۂ کلام ’’خشتِ حرم‘‘ میں یک جا کردیا ہے جس کو اُن کی اسلامی شاعری کا مجموعہ قرار دیا جاسکتا ہے جو ماہِ فروری ۲۰۰۳ء میں اشاعت پذیر ہوکر منظرِعام پر آیا ہے۔ اس کے شروع میں حسبِ معمول انھوںنے اپنے خاندانی، تعلیمی و شعرگوئی کے احوال و کوائف بیان کیے ہیں جو کسی بھی کتاب کے شروع میں ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ اس سے کتاب اور صاحبِ کتاب کے سلسلے میں ایک ایسا تصور اُبھر کر آتا ہے جو اس کی تخلیق کی تفہیم میں معاون ہوا کرتا ہے۔ اس کے بعد تسلیم غوری بدایونی کا پیش لفظ ہے جو ایک طرح سے کتاب اور صاحبِ کتاب کا تعارف ہے۔ نیز اس کے بعد قابلِ قدر ادیب و نقاد اردو ادب کے جاں نثار ویریندر پرشاد سکسینہ سابق ممبر اترپردیش اردو اکادمی لکھنؤ کا ایک گراںقدر تبصرہ ہے۔ ایک تبصرہ ایم راجا شعلہ چیف ایڈیٹر ’’بہار‘‘ ہر دوئی (یوپی) کا ہے۔
راجندر نرائن سکسینہ بسمل شمس آبادی کے مجموعہ ’’خشتِ حرم‘‘ میں حمد پاک کے بعد ہی نعتِ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جلوہ سامانیاں ہیں۔ اُن کے اس مجموعے کے شروع میں نعت پاک کا ایک ایسا شعر ہے جو ہزارہا نعت کے اشعار پر بھاری ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ بہت سے نعتیہ دوائن اور مجموعہ ہاے کلام پر بھاری ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ ملاحظہ ہو:
اعجاز ہے نبی کا کہ بسملؔ سا، بت پرست
طوفِ حرم کو، دیر سے جاتا ہوا ملا
آپ ایک لمحے کے لیے سوچ سکتے ہیں کہ بسمل شمس آبادی کے اس شعر میں کس قدر ہمہ گیریت اور وارفتگی جلوہ فرما ہے جس کا بیان نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ایک طرف تو بت پرستی کا دعویٰ ہے اور دوسری طرف حضرت نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے معجزے کی بات کہی جا رہی ہے اور آخری مصرعے میں بات بالکل صاف کردی گئی ہے کہ بت پرست ہونے کے باوجود حرمِ مقدس کی زیارت کا عزم بہت ہی پختہ ہے۔ جیسے یوں کہا جاسکتا ہے کہ عشقِ رسول کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔
راجندر نرائن سکسینہ خود اور دیگر ہندو نعت گو شعرا نے جابجا اپنے نعتیہ کلام میں ایمان و کفر کی بات کہی ہے۔ آج نعتیہ ادب کے ناقدین کے مابین اس قسم کے اشعار تنقید و تحقیق کا موضوع بنے ہوئے ہیں کہ اس طرح کے اشعار کو اسلامی جذبہ یا عشقِ رسول کہا جائے یا پھر شاعرانہ تعلّی۔ اس لیے کہ فقہِ اسلامی میں ایمان و کفر کی جو توضیح و تشریح موجود ہے وہ ان شعراے کرام کے کلام سے ہٹ کر ہے۔ چند اشعار بسمل شمس آبادی کے مجموعۂ کلام سے بھی ملاحظہ ہوں:
چھائی تھی زمانے پر جب کفر کی تاریکی
پیدا ہوئے ایمان کے لمعات مدینے میں٭۷
٭
ایماں کی تو یہ ہے کہ ایماں کی راہ پر
اُمت کو لائی جس کی قیادت تمھیں تو ہو ٭۸
٭
آپ پر لائے جو ایمان رسولِ عربی
آدمی ہے وہی انسان رسولِ عربی٭۹
اسی طرح شفاعت و بخشش کی باتیں بھی کہی گئی ہیں جب کہ شفاعت و بخشش کا مقام ایمان کے بعد کا ہے۔ مگر جس جوش اور جذبے کے تحت شفاعت و بخشش طلب کی جا رہی ہے وہ لائقِ صد ستائش ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:
بخشے جائیں گے بسملؔ سرِ حشر جو
اُن کی فہرست میں تیرا نام آگیا٭۱۰
٭
یہ کہہ کے مجھے بخشش سینے سے لگا لے گی
دیکھو یہ محمد کا دیرینہ غلام آیا٭۱۱
٭
انجام کار داورِ محشر کے سامنے
جس سے ہے اک اُمید شفاعت تمھیں تو ہو٭۱۲
الحاصل راجندر نرائن سکسینہ ہوں یا دیگر غیرمسلم نعت گو شعرا اُن کا کلام اُن کی تحریرکردہ نعتیں اور حمد پاک ان کے ایمان و عقائد سے ہٹ کر آج بھی پڑھنے کے بعد متاثر ضرور کرتی ہیں اور صرف متاثر ہی نہیں کرتیں بلکہ اپنا گرویدہ بنا لیتی ہیں۔ اس طرح کی ایک نعت پاک بسملؔ شمس آبادی کے مجموعۂ کلام سے ملاحظہ ہو جس وقت میں اس مقالے کی تیاری کر رہا تھا اور اشعار کا انتخاب تیار کر رہا تھا جب مَیںنے درج ذیل نعت پاک کا مطالعہ کیا تو مَیں فیصلہ ہی نہیں کرسکا کہ کس شعر کو منتخب کروں اور کس کو چھوڑ دو۔ بالآخر مَیں نے پوری نعت پاک تحریر کرنا مناسب سمجھا آپ بھی ملاحظہ فرمائیں اور محظوظ ہوں۔ عنوان ہے ’’عیدمیلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:
اللہ اللہ مبارک ہو دن آج کا، آج نبیوں کا اک پیش امام آگیا
گود میں آمنہ کی وہ نورِ ازل وہ رسالت کا ماہِ تمام آگیا
پیکر سادگی، روح پاکیزگی، جان ہر انجمن ہر مقام آگیا
جس کے رخسار کا عکس نورِ سحر جس کے گیسو کا سایہ ہے شام، آگیا
دیکھنے کو اسے عرش سے فرش تک جمع تھے جتنے قدس و حور و ملک
روئے اطہر کی بس دیکھتے ہی جھلک ان کے لب پر درود و سلام آگیا
کملی والے کے آنے کی تھی جو خبر، چاند تارے رہے فرش راہ رات بھر
لے کے کرنوں کی سوغات وقتِ سحر مہر تاباں پئے احترام آگیا
روشنی جس سے ایماں کی حاصل ہوئی مشکل انساں میں ہلتی وہ نازل ہوئی
آج نازاں بجا طور پر ہے بشر، آج ناز بشر کا مقام آگیا
لفظ کُن کی بیاں جس نے تفسیر کی جس نے سمجھا دیا موت ہے زندگی
واقفِ راز ہستی و نیستی رازدار فنا و دوام آگیا
عفو عصیاں کی خاطر پریشان نہ ہو وقت آخر اب آٹھ آٹھ آنسو نہ دو
بخشے جائیں گے بسملؔ سرِ حشر جو ان کی فہرست میں تیرا نام آگیا٭۱۳
اس کے علاوہ بسمل شمس آبادی کے مجموعۂ کلام ’’خشتِ حرم‘‘ میں تقریباً تیرہ نعت پاک اور ہیں۔ ایک سلام بھی ہے، سلام کا انداز بتا رہا ہے کہ آپ حفیظ جالندھری سے زیادہ متاثر ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:
سلام اُس پر جسے شایاں ہے فخرالانبیا کہنا
سلام اُس پر جسے زیبا ہے محبوبِ خدا کہنا
سلام اُس پر جو نقشِ اوّلیں تھا روئے گیتی پر
سلام اُس پر جو ختم المرسلیں تھا روئے گیتی پر
سلام اُس پر جو عقلِ کُل تھا، اُمی لقب جس کا
سلام اُس پر جہاں میں نام تھا ماہِ عرب جس کا
سلام اُس پر جو شمع راہِ عرفاں بن کے آیا تھا
سلام اُس پر جو گم راہوں کو راہِ حق پہ لایا تھا
سلام اُس پر جو دکھیوں کا ہمیشہ دُکھ بٹاتا تھا
سلام اُس پر خطا کاروں کی جس نے ہر خطا بخشی
سلام اُس پر کہ جس کا فیض عالم آشکارا تھا
جو بیوائوں، یتیموں، بے سہاروں کا سہارا تھا٭۱۴
راجندر نرائن سکسینہ بسمل شمس آبادی نے نعت پاک کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی اپنے فکر و فن کے جوہر دکھائے ہیں۔ جیسے رمضان کا مہینہ، نماز، روزہ، محرم، اے فاتحِ خیبر کے لال، اے عزادارِحسین، عیدالالضحیٰ، عیدالفطر، عید ہے، یہ عید کا دن ہے، عید کا دن ہے، اجمیرشریف، صوفی ستار شاہ، آستانہ ستاریہ فتح گڑھ وغیرہ۔
حوالے
٭۱۔ ’’خشتِ حرم‘‘ راجیندر نرائن سکسینہ بسمل شمس آبادی، گاڑی خانہ فتح گڑھ، ص۱۰
٭۲۔ ’’زخمِ نہاں‘‘ راجیندر نرائن سکسینہ بسمل شمس آبادی، گاڑی خانہ فتح گڑھ، ص۱۳
٭۳۔ ’’رستے چھالے‘‘ راجیندر نرائن سکسینہ بسمل شمس آبادی، گاڑی خانہ فتح گڑھ، ص۱۴
٭۴۔ ’’رستے چھالے‘‘ راجیندر نرائن سکسینہ بسمل شمس آبادی، گاڑی خانہ فتح گڑھ، ص۱۵
٭۵۔’’رستے چھالے‘‘ راجیندر نرائن سکسینہ بسمل شمس آبادی، گاڑی خانہ فتح گڑھ، ص۱۶
٭۶۔ ’’خشتِ حرم‘‘ راجیندر نرائن سکسینہ بسمل شمس آبادی، گاڑی خانہ فتح گڑھ، ص۲۵
٭۷۔ ’’خشتِ حرم‘‘ راجیندر نرائن سکسینہ بسمل شمس آبادی، گاڑی خانہ فتح گڑھ، ص۵۰
٭۸۔’’خشتِ حرم‘‘ راجیندر نرائن سکسینہ بسمل شمس آبادی، گاڑی خانہ فتح گڑھ، ص۳۴
٭۹۔’’خشتِ حرم‘‘ راجیندر نرائن سکسینہ بسمل شمس آبادی، گاڑی خانہ فتح گڑھ، ص۳۷
٭۱۰۔’’خشتِ حرم‘‘ راجیندر نرائن سکسینہ بسمل شمس آبادی، گاڑی خانہ فتح گڑھ، ص۲۸
٭۱۱۔ ’’خشتِ حرم‘‘ راجیندر نرائن سکسینہ بسمل شمس آبادی، گاڑی خانہ فتح گڑھ، ص۳۰
٭۱۲۔’’خشتِ حرم‘‘ راجیندر نرائن سکسینہ بسمل شمس آبادی، گاڑی خانہ فتح گڑھ، ص۳۴
٭۱۳۔’’خشتِ حرم‘‘ راجیندر نرائن سکسینہ بسمل شمس آبادی، گاڑی خانہ فتح گڑھ، ص۲۷۔۲۸
٭۱۴۔ ’’خشتِ حرم‘‘ راجیندر نرائن سکسینہ بسمل شمس آبادی، گاڑی خانہ فتح گڑھ، ص۴۸۔۴۹
راجندر نرائن سکسینہ بسملؔ شمس آبادی (شخصیت اور نعتیہ شاعری کا مطالعہ)
Reviewed by WafaSoft
on
July 27, 2019
Rating:


No comments: