سینے میں صدق کے دلآویز اجالے ہیں
اے رب تری قدرت کے انداز نرالے ہیں
ہرایک کادامن ہے منسوب ترے درسے
توبانٹنے والا ہے سب مانگنے والے ہیں
ہرحرف وعدد تیرا ہر رزق ورسد تیرا
بخشاہے دہن تونے تیرے ہی نوالے ہیں
الفاظ وزباں تیری تعریف کریں کیوں کر
احساس کے ہونٹوں پرافلاس کے تالے ہیں
تو نے ہی اندھیروں کو ہرسمت بکھیراہے
تونے ہی فضاؤں میں جگنو بھی اچھالے ہیں
ہرقطرۂ شبنم میں تیراہی تعارف ہے
ہرپھول کی پتی میں تیرے ہی حوالے ہیں
حافظ مرے فن پربھی احسان اسی کاہے
وہ جس کے لیے میں نے یہ شعر نکالے ہیں
حافظ کرناٹکی
سینے میں صدق کے دلآویز اجالے ہیں
Reviewed by WafaSoft
on
July 28, 2019
Rating:


No comments: