قطعات
بزم جب ان کی ہم سجاتے ہیں
مدحتیں جھوم کر سناتے ہیں
داد ہر اک شعر پر دینے
آسماں سے ملک بھی آتے ہیں
٭
کیا مجھ سے واعظ نے ذکرِ مدینہ
تڑپنے لگا صدق جذبوںسے سینہ
فداؔ پہ نوازش جوسرکارکردیں
کنارے پہ ہو زندگی کا سفینہ
٭
قسمت نے کسی دن جو پہنچایا مدینے میں
ہرنعت سناؤں گا سرکار کو ر و ر و کر
دکھلائیں گے جلؤوں کووہ اپنے فداؔہردم
آنکھوںمیںسمیٹوں گاانوار کوروروکر
٭
زندگانی کا یہ قرینہ ہو
پُر ضیاء قلب کا نگینہ ہو
اور کچھ بھی نہ ہو فداؔ اس میں
دل میں یادِ شہِ مدینہ ہو
٭
زندگانی کا یہ قرینہ ہو
پُر ضیاء قلب کا نگینہ ہو
اور کچھ بھی نہ ہو فداؔ اس میں
دل میں یادِ شہِ مدینہ ہو
٭
بن کے پنچھی میں کاش اڑاہوتا
اور طیبہ میں جابسا ہوتا
رشک وہ جس پہ یہ جہاں کرتا
اس بلندی پہ مرتبہ ہوتا
غلام ربانی فداؔ
قطعات
Reviewed by WafaSoft
on
July 27, 2019
Rating:


No comments: