کیا آئے گا بھلا وہ کسی کے دبائو میں
پر لگ گئے ہوں جس کو مدینے کے چائو میں
جذبے کی ایک لہر نے طیبہ دکھا دیا
ہم کب سے مبتلا تھے یونہی چل چلائو میں
نقدِ وفا لٹائو تو مل جائے شہرِ شوق
اُلجھے رہو گے ورنہ یونہی بھائو تائو میں
گردن جھکے تو گنبدِ خضریٰ دکھائی دے
دیکھو تو کتنی رفعتیں ہیں اس جھکائو میں
اُٹھو کہ اُڑ کے طے کریں ہم وادیِ جمال
ورنہ رکھا ہی کیا ہے یہاں رکھ رکھائو میں
راہِ نبی میں کام تو بس دل ہی آئے گا
اک درد سر ہے عقل و خرد کے گھمائو میں
جب بھی مجھے دیارِ نبی سے ملے گا اِذن
اک پھول کھل اُٹھے گا غموں کے الائو میں
پھر بھی علم بلند رہا تیرے نام کا
گوتھی کمانِ کفر مسلسل تنائو میں
نعتِ نبی کہی تو ملا ساحل مراد
ہم بہہ رہے تھے کب سے غزل کے بہائو میں
اُٹھو سہیلؔ منزلِ آخر کے واسطے
کچھ جمع کر لیں شہرِ نبی کے پڑائو میں
سہیل اختر
کیا آئے گا بھلا وہ کسی کے دبائو میں
Reviewed by WafaSoft
on
July 28, 2019
Rating:


No comments: