کیا آئے گا بھلا وہ کسی کے
دبائو میں
دبائو میں
پر لگ گئے ہوں جس کو مدینے
کے چائو میں
کے چائو میں
جذبے کی ایک لہر نے طیبہ
دکھا دیا
دکھا دیا
ہم کب سے مبتلا تھے یونہی
چل چلائو میں
چل چلائو میں
نقدِ وفا لٹائو تو مل جائے شہرِ
شوق
شوق
اُلجھے رہو گے ورنہ یونہی
بھائو تائو میں
بھائو تائو میں
گردن جھکے تو گنبدِ خضریٰ
دکھائی دے
دکھائی دے
دیکھو تو کتنی رفعتیں ہیں
اس جھکائو میں
اس جھکائو میں
اُٹھو کہ اُڑ کے طے کریں ہم
وادیِ جمال
وادیِ جمال
ورنہ رکھا ہی کیا ہے یہاں
رکھ رکھائو میں
رکھ رکھائو میں
راہِ نبی میں کام تو بس دل
ہی آئے گا
ہی آئے گا
اک درد سر ہے عقل و خرد کے
گھمائو میں
گھمائو میں
جب بھی مجھے دیارِ نبی سے
ملے گا اِذن
ملے گا اِذن
اک پھول کھل اُٹھے گا غموں
کے الائو میں
کے الائو میں
پھر بھی علم بلند رہا تیرے
نام کا
نام کا
گوتھی کمانِ کفر مسلسل
تنائو میں
تنائو میں
نعتِ نبی کہی تو ملا ساحل
مراد
مراد
ہم بہہ رہے تھے کب سے غزل
کے بہائو میں
کے بہائو میں
اُٹھو سہیلؔ منزلِ آخر کے
واسطے
واسطے
کچھ جمع کر لیں شہرِ نبی کے
پڑائو میں
پڑائو میں
سہیل اختر
کیا آئے گا بھلا وہ کسی کے دبائو میں
Reviewed by WafaSoft
on
July 28, 2019
Rating:


No comments: