جا کے طیبہ میں جو ہو جائوں
نثار طیبہ
نثار طیبہ
حشر کے دن مری مٹی ہو شمارِ
طیبہ
طیبہ
کاش یہ جسم بنے ارضِ مدینہ
کی غذا
کی غذا
اوڑھ لے روح مری نورِ غبار
طیبہ
طیبہ
شب تاریک نہ دیکھی نہ سنی
طیبہ میں
طیبہ میں
نور ہی نور ہے ماحولِ دیار
طیبہ
طیبہ
جیسے معراج کی شب راہِ فلک
روشن تھی
روشن تھی
یوں چمکتی ہے ہر اک راہ
گزارِ طیبہ
گزارِ طیبہ
بنی انساں کی ہے تہذیب کا
طیبہ مرکز
طیبہ مرکز
باقی دنیا ہے فقط قرب و
جوارِ طیبہ
جوارِ طیبہ
وہ بھی ملتا ہے یہاں جس کا
گماں تک بھی نہ ہو
گماں تک بھی نہ ہو
خلد سے بڑھ کے ثمرور ہے
بہارِ طیبہ
بہارِ طیبہ
میری ہر نسل کی کھیتی پہ
کرم ہو تیرا
کرم ہو تیرا
مجھ پہ تا حشر برس ابرِ
بہار طیبہ
بہار طیبہ
آتے جاتے ہوئے عُشّاق کو
دیکھوں کوثرؔ
دیکھوں کوثرؔ
کاش بس جائوں کسی طور کنارِ
طیبہ
طیبہ
کوثر علی (فیصل آباد)
جا کے طیبہ میں جو ہو جائوں نثار طیبہ
Reviewed by WafaSoft
on
July 28, 2019
Rating:


No comments: