جا کے طیبہ میں جو ہو جائوں نثار طیبہ
حشر کے دن مری مٹی ہو شمارِ طیبہ
کاش یہ جسم بنے ارضِ مدینہ کی غذا
اوڑھ لے روح مری نورِ غبار طیبہ
شب تاریک نہ دیکھی نہ سنی طیبہ میں
نور ہی نور ہے ماحولِ دیار طیبہ
جیسے معراج کی شب راہِ فلک روشن تھی
یوں چمکتی ہے ہر اک راہ گزارِ طیبہ
بنی انساں کی ہے تہذیب کا طیبہ مرکز
باقی دنیا ہے فقط قرب و جوارِ طیبہ
وہ بھی ملتا ہے یہاں جس کا گماں تک بھی نہ ہو
خلد سے بڑھ کے ثمرور ہے بہارِ طیبہ
میری ہر نسل کی کھیتی پہ کرم ہو تیرا
مجھ پہ تا حشر برس ابرِ بہار طیبہ
آتے جاتے ہوئے عُشّاق کو دیکھوں کوثرؔ
کاش بس جائوں کسی طور کنارِ طیبہ
کوثر علی (فیصل آباد)
جا کے طیبہ میں جو ہو جائوں نثار طیبہ
Reviewed by WafaSoft
on
July 28, 2019
Rating:


No comments: