اپنے تو ہے ہر غم کی دوا
شہرِ نبی میں
شہرِ نبی میں
لے جائے کبھی ہم کو خدا
شہرِ نبی میں
شہرِ نبی میں
تا عمر وہ بھولا نہیں پھر
شہرِ نبی کو
شہرِ نبی کو
اِک پل بھی اگر کوئی رہا
شہرِ نبی میں
شہرِ نبی میں
جو اور کہیں جا کے ملی ہے
نہ ملے گی
نہ ملے گی
تسکین وہ ہوتی ہے عطا شہرِ
نبی میں
نبی میں
سو بار فدا ایسی قضا پر
میرا جینا
میرا جینا
آجائے اگر مجھ کو قضا شہرِ
نبی میں
نبی میں
آنے کو ترستا ہے کوئی بے
سر و ساماں
سر و ساماں
لے جا مرا پیغام صبا شہرِ
نبی میں
نبی میں
یہ شہر ہے جس سے کوئی خالی
نہیں آتا
نہیں آتا
بن مانگے بھی ہوتا ہے عطا
شہرِ نبی میں
شہرِ نبی میں
اشعار میں اپنے سبھی آقا
کوسنائوں
کوسنائوں
نعتیں میں پڑھوں جا کے ضیاؔ
شہرِ نبی میں
شہرِ نبی میں
سیّد ضیاء محی الدین گیلانی
(ہڑپہ)
(ہڑپہ)
اپنے تو ہے ہر غم کی دوا شہرِ نبی میں
Reviewed by WafaSoft
on
July 27, 2019
Rating:


No comments: