سرکا ردو جہاں سے جسے پیا ر ہو گیا
بیڑا سمجھ
لو اس کا یہاں پا ر ہوگیا
لو اس کا یہاں پا ر ہوگیا
بے شک اسے بلاتے ہیں سرکا ر
اپنے پاس
اپنے پاس
جو صد ق دل سے ان کا طلبگار ہو گیا
بے شک ہو ا وہ دولت دنیا سے
بے لحاظ
بے لحاظ
دیدار ِ مصطفیٰ
سے جو سر شا ر ہو گیا
سے جو سر شا ر ہو گیا
سو ئے مدینہ
ہم کو بلا لیجئے
حضو ر
ہم کو بلا لیجئے
حضو ر
جینا ہما ر ا
ہند میں دشوا ر
ہو گیا
ہند میں دشوا ر
ہو گیا
بے شک کرم ہے آپ کا سورج
کے حال پر
کے حال پر
آباد اس کا دیکھئے
گھربارہو گیا
گھربارہو گیا
سورجؔ کرناٹکی ہری ہر
سرکا ردو جہاں سے جسے پیا ر ہو گیا
Reviewed by WafaSoft
on
July 27, 2019
Rating:


No comments: