خدایا میں کروں تیری ثنا اول سے آخر تک
کہاں ممکن‘ کروں میں حق ادا اول سے آخر تک
مرے اعمال کب ہیں عفو کے قابل مرے مولیٰ
تری رحمت کی ہو مجھ پر ردا اول سے آخر تک
سنا ہے حشر میں شان کریمی کام آئے گی
بس اک امّید ہے روز جزا اول سے آخر تک
یقینا لوح بھی تیری قلم تیرا جہاں تیرا
مجھے مل جائے بس تیری رضا اول سے آخر تک
شریعت ہو طریقت ہو کہ ہو وہ معرفت یارب
بصیرت کی نظر تو کر عطا اول سے آخر تک
کروں میں بندگی تیری دعا مانگوں تو بس تجھ سے
خدایا بخش خوشدل ؔکی خطا اول سے آخر تک
۰۰۰
فرحت حسین خوشدلؔ
خدایا میں کروں تیری ثنا اول سے آخر تک
Reviewed by WafaSoft
on
July 27, 2019
Rating:


No comments: