Best Wall Stickers

محمد شہزاد مجددی۔ لاہور.... اردو نعتیہ شاعری میں موضوع روایات

 اردو نعتیہ شاعری میں موضوع روایات


محمد شہزاد مجددی۔ لاہور
ہمارے نعت گو شعرائے کرام نے سیرت و شمائل پر مبنی مضامین کو بھی اپنے اشعار کی زینت بنایا ہے اور بعض خوش نصیبوں نے تو میلاد ناموں، معراج ناموں اور سیرتِ طیبہ کو بھی نظم کی صورت میں لکھنے کا اہتمام کیا ہے، یہ اَمر جہاں بعض حوالوں سے لائقِ ستائش ہے، وہاں ایک جہت سے باعثِ تشویش بھی ہے کہ ایسے نعت گو اور مدح گستر حضرات جو بذاتِ خود ایسی علمی استعداد کے حامل نہیں تھے کہ احادیث کی روایت و درایت کے اُصول پر جانچ سکیں اور مرویات کے صحیح و سقیم کا اندازہ لگا سکیں۔ بلا تردّد ہر قسم کے مضامین کو منظوم کرتے رہے اور ذخیرۂ نعت میں غیرثقہ اور وضعی حکایات و واقعات کا انبار جمع ہوتا رہا۔ شاید اس کا ایک بنیادی سبب یہ بھی ہو کہ اکثر نعت گو شعرا کا ماخذ صدری روایات اور فضائل پر مبنی ایسے مواعظ تھے جنھیں اس زمانے میں حرفِ آخر کا درجہ حاصل تھا۔ اُس دور میں کتبِ حدیث اور اوّلین ماخذ تک رسائی تو ہندستان کے اکابر علما اور محققین کے لیے بھی جوئے شیر لانے کے مترادف تھی۔ چناںچہ اس پس منظر میں موضوع اور جعلی روایات و حکایات کا نعتیہ شاعری میں دَر آنا بعید از امکان نہ تھا۔
اردو نعتیہ شاعری میں بہ کثرت پائے جانے والے ایسے مضامین میں سے ایک معروف مضمون واقعۂ معراج میں حضور اقدسﷺ کے نعلین سمیت عرشِ معلی پر تشریف لے جانے سے متعلق ہے۔ اس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ جب سرکارِ دوعالمﷺ نے عرشِ الٰہی کی طرف عروج فرمایا تو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے پیشِ نظر جو موسیٰ علیہ السلام سے کہا گیا تھا:
اے موسیٰ اپنے جوتے اُتار دو کیوںکہ تم وادئ طویٰ میں ہو۔٭۱
آپ نے بھی نعلین اُتارنے کا ارادہ فرمایا لیکن ارشاد ہوا:
یامحمد! لاتخلع نعلیک لتشرف السماء بھما۔
ترجمہ : اے محمدﷺ! تم اپنے نعلین نہ اُتارو تاکہ آسمان اِن سے شرف حاصل کرے۔
علامہ عبدالحی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو ان الفاظ سے نقل کیا ہے:
یا محمد لا تخلع نعلیک فان العرش یتتشرف بقدومک منتعلا و یفتخر علی غیرہ متبرکا فصعد النبیﷺ الی العرش و فی قدمیہ نعلان و حصل لہ لذلک عزوشان۔   ٭۲
ترجمہ : اے محمدﷺ! اپنے نعلین مت اُتارو بے شک عرش تمھارے قدموں کے جوتوں سمیت آنے سے مشرف ہوگا اور اس سے برکت حاصل کرکے اپنے غیر پر فخر کرے گا، پس آپ عرش پر چڑھ گئے (اس حال میں)کہ آپ کے پائوںمیںنعلین تھے اور اس وجہ سے آپ کو شان و عظمت حاصل ہوئی۔
علامہ لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اس قصے کا تذکرہ اکثر نعت گو شعرا نے کیا ہے اور اسے اپنے تالیفات میں درج کیا ہے اور ہمارے زمانے کے اکثر واعظین اسے طوالت و اختصار کے ساتھ اپنی مجالسِ وعظ میں بیان کرتے ہیں۔ جب کہ شیخ احمد المقری نے اپنی کتاب ’’فتح المتعال فی مدح النعال‘‘ میں علامہ رضی الدین قزوینی اور محمد بن عبدالباقی زرقانی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’شرح مواہب اللدنیہ‘‘ میں زور دے کر وضاحت کی ہے کہ یہ قصہ مکمل طور پر موضوع ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے گھڑنے والے کو برباد کرے۔ معراج شریف کی کثیر روایات میں کسی ایک روایت سے بھی یہ ثابت نہیں ہے کہ نبی کریمﷺ اس وقت پاپوش پہنے ہوئے تھے۔   ٭۳
سرکارِ دوعالمﷺ کے نعلین شریفین کی فضیلت و عظمت کے حوالے سے لکھی جانے والی ایک اہم اور حوالے کی کتاب ’’فتح المتعال فی مدح النعال‘‘ ہے جس کے مؤلف علامہ احمد المقری التلمسانی رحمۃ اللہ علیہ (۱۰۹۲/۱۰۴۱ھ)۔ (اس کتاب کا اردو ترجمہ مفتی محمد خان قادری اور مولانا محمد عباس رضوی کی مشترکہ کاوش کے نتیجے میں شائع ہوچکا ہے۔
امام احمد المقری نے اس کتاب میں بعض عرب شعرا کے ایسے نعتیہ اور مدحیہ قصائد نقل کیے ہیں جن میں عرش پر نعلین سمیت جانے کا تذکرہ بڑے والہانہ انداز سے کیا گیا ہے، مثلاً:
یا ناظراً تمثال نعل نبیہ
قبل مثال نعالہ متذللا
اے نبیﷺ کے نقشِ نعلین کی زیارت کرنے والے! ان کے نقشِ نعل کو عاجزی سے بوسہ دے۔
و اذکر بہ قدما علت فی لیلۃ
الاسراء بہ فوق السموات العلی
اور اس بات کو یاد رکھ کہ یہ نعلین حضورﷺ کے ساتھ معراج کی رات آسمانوں کی بلندی سے اوپر تک گئے تھے۔
شیخ المقری کا تبصرہ
مؤلف ’’فتح المتعال‘‘ فرماتے ہیں:
مذکورہ کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ کو معراج نعلین سمیت ہوا۔ اس کی تصریح شیخ السبتی وغیرہ نے بھی کسی جگہ کی ہے اور یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ آپ نے نعلین اُتارنے کا ارادہ کیا تو آواز آئی کہ انھیں نہ اُتارو۔ شیخ ابوالحسن علی بن احمد الخزرجی نے بھی اس کی اتباع کی ہے۔ لیکن تلاش بسیار کے باوجود مجھے کتب حدیث میں اس کی تائید نہیں ملی، تو درست یہی ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے جب کہ یہ آپ تک پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچی اور اس طرح کی روایات کو بغیر معلومات کے بیان نہیں کرنا چاہیے۔ بعض حفاظِ حدیث نے اس کا سخت انکار بھی کیا اور ایسی بات کرنے والوں پر طعن کیا ہے۔ اس معاملے میں محدثین کی اتباع متعین ہے۔ کیوںکہ وہ زیادہ آگاہ ہوئے ہیں۔  ٭۴
عجب بات یہ ہے کہ اس کتاب کے مقدمہ اور بعض تقریظات میں اس موضوع اور جعلی روایت کو نقل کرکے اس سے استشہاد کیا گیا ہے اور نعلینِ نبویﷺ کی فضیلت اس سے ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مثال ملاحظہ ہو:
حضورﷺ جب عرش پر تشریف لے گئے تو اپنے نعلین کو اُتارنے کا قصد کیا جس پر ربّ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے حبیبﷺ اپنے نعلین کے ساتھ عرش پر چلے آئیں۔۔۔ الخ
آگے پورا قصہ دہرایا گیا ہے۔ ایک عربی شعر لکھا ہے جس کا ترجمہ درج ذیل ہے:
موسیٰ علیہ السلام کو طور کے قریب جوتے اُتارنے کا حکم دیا گیا جب کہ احمدمجتبیٰﷺ کو سرِ عرش بھی یہ رخصت نہ ملی۔٭۵
اسی کتاب کے ایک فاضل تقریظ نگار نے اپنی تحریروں میں اس من گھڑت اور وضعی روایت کو بڑے اہتمام سے جگہ دی ہے۔ (ملاحظہ ہو:۹۳)
ایک اور معتبر اہلِ قلم شخصیت نے علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی کے عربی اشعار نقل کرنے کے بعد اسی مضمون و مفہوم کا اعادہ کیا ہے۔٭۶
ایک بزرگ اور معروف تقریظ نگار نے اس جعلی اور موضوع روایت میں مزید اضافہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
جناب الٰہی سے خطاب آیا کہ اے میرے حبیبﷺ! آگے چلے آئو۔ تب حضرت محمدﷺ نے نعلین مبارک اُتارنی چاہی تو عرشِ مجید لرزہ میں آگیا۔۔۔الخ
مزید لکھتے ہیں:
پس معلوم ہوا کہ جب آپ نے نعلین مبارک سمیت عرش پر قدم رکھے تو عرش کو قرار آگیا اور وہ پُرسکون ہوگیا اور اس کی عظمت بلند ہوئی۔   ٭۷
امام محمد بن عبدالباقی زرقانی رحمۃ اللہ علیہ ’’شرح مواہب‘‘ میں لکھتے ہیں:
وقد سئل الامام القزوینی عن وطء النبیﷺ العرش بنعلہ و قول الرب جل جلالہ لقد شرف العرش بنعلہ یامحمد، ھل ثبت ام لا؟ فأجاب: اما حدیث وطء النبیﷺ العرش بنعلہ، فلیس بصحیح ولا ثابت۔۔۔ الخ    ٭۸
ترجمہ : اور جب امام رضی الدین قزوینی سے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نعلین سمیت عرش پر خرام فرمانے اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: اے محمد! تحقیق عرش تیرے نعل سے شرف پائے‘‘ کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا یہ ثابت ہے یا نہیں؟ تو انھوںنے جواب دیا، جہاں تک حضورﷺ کے نعلین سمیت عرش پر خرام فرمانے والی روایت کا تعلق ہے، تو یہ صحیح اور ثابت نہیں ہے۔
امام زرقانی لکھتے ہیں
بعض محدثین فرماتے ہیں:
جس شخص نے یہ روایت گھڑی ہے کہ آپ نعلین سمیت عرش پر چڑھے خدا اس کوغارت کرے کہ اس نے شدید بے حیائی کا مظاہرہ کیا ہے اور مؤدّبین کے سردار اور عارفین کے پیشوا(ﷺ) کے بارے میں ایسی جسارت کی ہے اور فرمایا کہ امام رضی الدین القزوینی کا جواب درست ہے۔ بلاشبہ اسرا و معراج کا قصہ طوالت و اختصار کے ساتھ تقریباً چالیس صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، لیکن اُن میں سے کسی ایک کی روایت میں بھی اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پائوں میں اس رات نعل تھی، یہ تو صرف بعض جاہل قسم کے قصہ گویوں کی شاعری میں ملتاہے اور ان لوگوں نے عرش کا تذکرہ نہیں کیا بلکہ یہ کہتے ہیں، آپ بساط پر آئے اور جوتے اُتارنے کا ارادہ فرمایا تو صدا دی گئی کہ آج جوتے مت اُتاریں اور یہ باطل ہے، کیوںکہ پوری چھان بین کے باوجود ایسی کوئی روایت احادیث میں نہیں پائی گئی اور نہ ہی ایسا کسی حدیث صحیح حسن یا ضعیف میں وارد ہے کہ آپ سدرۃ المنتہیٰ سے آگے گئے ہوں۔     ٭۹
امام زرقانی کا تبصرہ
اس مقام پر امام زرقانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
مگر ان محدث کے اس دعوے میں یہ تامل ہے کہ حضورﷺ کا سدرۃ المنتہیٰ سے آگے جانا کسی صحیح، حسن اور ضعیف روایت میں وارد نہیں ہوا جب کہ ابن ابی حاتم نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کیا ہے:
انہﷺ لما انتہی الی سدرۃ المنتہی غشیۃ سحابۃ فیہا من کل لون، فتأخر جبریل۔
کہ آپ جب سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے تو ایک ہمہ رنگ بادل نے آپ کو ڈھانپ لیا پس جبریل پیچھے رہ گئے۔
اور قزوینی جس کے قول کی تصویب اس محدث نے کی ہے، وہ بھی اس روایت کے منقول ہونے کا اعتراف کرتے ہیں:
فانما ورد فی اخبار ضعیفۃ و منکرۃ۔٭۱۰
کہ یہ صرف ضعیف اور منکر روایات میں وارد ہوا ہے۔
علامہ عبدالحی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
ایسی ہی روایات میں سے وہ روایت ہے جو قصہ گو (واعظوں) میں مشہور ہے کہ نبی کریمﷺ نے معراج کی رات نعلین سمیت سیر فرمائی، پھر جب آپ آسمان کی بلندیوں پر گئے اور عرشِ معلی تک پہنچے تو آپ نے ادباً جوتے اُتارنا چاہے اور اللہ تعالیٰ کا موسیٰ علیہ السلام سے یہ فرمانا بھی پیشِ نظر تھا کہ (اے موسیٰ! اپنے جوتے اُتار دو، بے شک تم وادئ مقدس طویٰ میں ہو) تو ملک الاعلیٰ کی بلند بارگاہ سے ندا دی گئی: اے محمد! اپنے جوتے نہ اتارو بعض شعرا اور قصیدہ خوانوں نے بھی اس قصے کو اپنی شاعری اور مجموعوں میں ذکر کیا ہے، یوں یہ قصہ ان کے خواص و عوام میں پھیل گیا۔       ٭۱۱
علامہ لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ چند عربی اشعار نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
میں نے جب یہ قصہ بعض واعظین سے سنا تو دل ہی دل میں کہا کہ اس معاملے کا واقعہ ہونا مصطفی کریمﷺ کی بلندیِ شان کے باوصف کچھ بعید نہیں، بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام جہانوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے اور زمینوں اور آسمانوں کو آپ کے قدموں سے مشرف کیا ہے تو کچھ بعید نہیں کہ آپ کو نعل سمیت معراج کرائی ہو اور آپ سے فرمایا ہو، اپنے جوتے مت اُتارو لیکن (پھر خیال آتا) کہ جو چیز کسی ضعیف روایت تک سے ثابت نہیں ہے ہمیں اسے بیان کرنے کی جرأت نہیں کرنی چاہیے، یہاں تک کہ میں امام احمد المقری اور دیگر علما کی آرا پر مطلع ہوا اور میرا تردّد چھٹ گیا اور میرا تحیر جاتا رہا اور میں نے برسرِ مجالس اعلان کیا کہ یہ قصہ موضوع، جعلی، من گھڑت اور اختلافی ہے۔
اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے بھی اس روایت کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ چناںچہ احکامِ شریعت میں ہے:
سوال : حضور اقدسﷺ کا شبِ معراج عرشِ الٰہی پر نعلین مبارک سمیت تشریف لے جانا صحیح ہے یا نہیں؟
جواب : یہ محض جھوٹ اور موضوع ہے۔ واللہ اعلم   ٭۱۲
اسی تسلسل میں واقعۂ معراج سے متعلق چند دیگر موضوع روایات کی نشان دہی بھی مناسب معلوم ہوتی ہے جو قصہ گو قسم کے واعظین میں مشہور اور مقبول ہیں۔
مثلاً ایک بے اصل روایت وہ ہے جسے صاحبِ ’’مواہب اللدنیہ‘‘ نے درج ذیل الفاظ سے نقل کیا ہے:
قف یا محمد ان ربک یصلی۔٭۱۳
اے محمدﷺ! ٹھہرو بے شک تمھارا رب درود بھیج رہا ہے۔
اس روایت کے بارے میں الشیخ الامام محمد درویش الحوت (تلمیذ علامہ ابن عابدین بن شامی) لکھتے ہیں:
حدیث : قف فان ربک یصلی و انہ قیل لہ ذلک لیلۃ الاسراء باطل۔   ٭۱۴
ترجمہ : حدیث : ٹھہرو بے شک تمھارا رب درود بھیج رہا ہے اور یہ کہ ایسا معراج کی رات نبی کریمﷺ سے کہا گیا، باطل ہے۔
ایسے ہی معراج کے حوالے سے وہ روایت ہے جسے طبرانی نے سیّدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے:
ترجمہ : آپ نے فرمایا: معراج کی رات جب میں نے آسمانوں کی سیر کی، تو میں جنت میں داخل ہوا پھر ایک ایسے جنتی درخت کے پاس ٹھہرا جس سے زیادہ خوب صورت درخت میں نے جنت میں نہیں دیکھا اور نہ ہی اُس سے زیادہ سفید، خوش بو دار اور نہ پھل کے لحاظ سے زیادہ پاکیزہ۔ چناںچہ میں نے اس کے پھلوں میں سے ایک پھل پکڑا اور کھا لیا تو وہ میری صلب میں نطفہ بن گیا۔ پھر جب میں زمین پر اُترا اور خدیجہ سے ملا تو وہ فاطمہ سے حاملہ ہوگئیں۔     ٭۱۵
امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ اسے نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
اس میں یہ تصریح ہے کہ معراج سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ولادت سے پہلے ہوئی، حالاںکہ ان کی ولادت اعلانِ نبوت سے تقریباً سات سال پہلے ہوئی اور بلاشبہ معراج کا واقعہ اعلانِ نبوت کے بعد کا ہے۔ (ایضاً)
شارح مواہب امام زرقانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
ترجمہ : قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ کہنا کہ یہ حدیث ضعیف ہے، اس سے مراد ضعیف کی سب سے بُری قسم ہے اور وہ موضوع ہے۔ پھر یقینا ابن الجوزی، امام ذہبی اور حفاظ حدیث نے یہ صراحت کی ہے کہ یہ روایت موضوع ہے اوراگرچہ یہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے متعدد طرق سے مروی ہے اور ابن جوزی نے اسے ابرادی کی سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور وہ کذب، وضاع (حدیث گھڑنے والا) ہے اور حاکم نے مستدرک میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے : امام ذہبی اپنی تلخیص میں کہتے ہیں، یہ صریح جھوٹ ہے اور یہ روایت مسلم بن عیسیٰ الصغاد کی گڑھی ہوئی ہے کیوںکہ فاطمہ رضی اللہ عنہا معراج تو کجا اعلانِ نبوت سے بھی پہلے پیدا ہوئی ہیں اور یہ اسی بات پر دلالت کرتا ہے کہ مصنف نے ضعیف سے مراد موضوع لیا ہے۔      ٭۱۶
اسی زمرے میں واعظین کی زبانوں پر جاری رہنے والی وہ روایت بھی ہے جسے ’’معارج النبوۃ‘‘ کے حوالے سے پڑھا، سُنا اور سُنایا جاتا ہے۔ اس روایت کا خلاصہ یوں ہے:
حضور اکرمﷺ نے شبِ معراج براق پر سوار ہوتے وقت اللہ تعالیٰ سے وعدہ لے لیا ہے کہ روزِ قیامت جب کہ سب لوگ اپنی اپنی قبروں سے اٹھیںگے، ہر ایک مسلمان کی قبر پر اسی طرح ایک ایک براق بھیجوںگا، جیساکہ آج آپ کے واسطے بھیجا گیا ہے۔
اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ:
سوال : یہ مضمون صحیح ہے یا نہیں اور کتاب’’معارج النبوۃ‘‘ کیسی کتاب ہے، اس کے مصنف عالم اہلِ سُنّت اور معتبر محقق تھے یا نہیں؟
جواب : بے اصل ہے۔ ’’معارج النبوۃ‘‘ کے مؤلف سُنّی واعظ تھے، کتاب میں رطب و یابس سبھی کچھ ہے۔ واللہ اعلم۔   ٭۱۷
ماہرینِ حدیث اور ائمہ محدثین نے موضوع روایت کی شناخت اور پہچان کے لیے جو علامات اور اصول بیان کیے ہیں اُن کے مطابق یہ روایت ظاہر الوضع ہے یعنی کلامِ نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے معمولی مناسبت اور تمسک رکھنے والا طالب علم بھی اس کے مضمون کی رکاکت، عدم فصاحت اور عقل و شرع سے تصادم کے باعث فوراً جان لے گا کہ یہ صاحبِ جوامع الکلم کا کلام نہیں ہوسکتا۔
معراج کے حوالے سے یہ بات بھی بے حد مشہور ہے کہ گلاب کا پھول اس رات آپ کے پسینہ مبارک سے پیدا ہوا اور اس کی خوش بو میں بھی یہی راز پوشیدہ ہے۔
ایک روایت کے الفاظ یوں نقل کیے گئے ہیں:
من اراد ان یشم رائحتی فلیشتم الورد الاحمر۔       ٭۱۸
ترجمہ : جو میری خوش بو کو سونگھنا چاہے وہ سرخ گلاب کو سونگھ لے۔
امام بدرالدین زرکشی نے ’’اللٓالی المنثورۃ‘‘ میں امام سخاوی نے ’’المقاصد الحسنہ‘‘ میں اور شیخ محمد بن طاہر پٹنی وغیرہ نے ’’تذکرۃ الموضوعات‘‘ میں اسے جعلی، من گھڑت اور موضوع روایت قرار دیا ہے۔      ٭۱۹
واقعۂ معراج سے متعلق اس طرح کی بیش تر روایات مشہور ہیں جن کا تذکرہ اکثر واعظین کی تقریروں اور تحریروں میں ملتا ہے۔
ایسی روایات کے فروغ میں غیرمستند اور بے سروپا حکایات پر مشتمل لٹریچر اور کتب و رسائل کا بڑا ہاتھ ہے۔ اس سلسلے میں چند مشہور کتابوں کے نام لیے جاسکتے ہیں، مثلاً ’’نزہۃ المجالس‘‘، ’’معارج النبوۃ‘‘ وعظ بے نظیر بارہ تقریریں، صوفیائے کرام سے غلط طورپر منسوب تذکرے، ملفوظات کے مجموعے اور فضائلِ اعمال کے نام سے مختلف موضوعات پر شائع ہونے والی غیرعلمی کتابیں اور حصولِ ثواب کے لیے مفت تقسیم کیے جانے والے کتابچے اس قسم کے مواد سے بھرے ہوتے ہیں۔
ہماری نعتیہ شاعری پر عربی اور فارسی شاعری کا بھی کسی حد تک گہرا اثر ہے۔ لہٰذا عربی اور فارسی اساتذہ فخر کے اشعار میں پائے جانے والے مضامین کو بھی خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔ عربی اشعار میں اسی مضمون کا حوالہ اوپر (بحوالہ ’’فتح المتعال‘‘) گزر چکا ہے، فارسی میں بھی یہ مضمون بعض اکابر نے منظوم کیا ہے۔ نظامی گنجوی کا شعر دیکھئے:
سریر عرش را نعلین او تاج
امین وحی و صاحبِ سرِّ معراج
(بحوالہ: ’’ارمغانِ نعت‘‘ ص۴۱)
آخر میں اردو کے معروف اور غیرمعروف نعت گو شعرا کے اشعار بطورِ نمونہ پیشِ خدمت ہیں:
۱۔            نعلین پا سے عرشِ معلی کو ہے شرف
روح الامیں ہیں غاشیہ بردار مصطفی
(بیدم وارثی)
۲۔           حکم موسیٰ کو ہوا ’’فاخلع‘‘مگرمعراج میں
تاج فرق عرش ہے نعلین پائے مصطفی
(وہبی لکھنوی)
۳۔ تیری نعلین کا وہ رُتبہ ہے اعلیٰ جس سے
عرش کے فرش کو حاصل شرف تاج ہے آج
(وحشی، سفینۂ نعت، حصہ۲، ص۲۲)
۴۔          عرش پہ نعلین سے جانے والے
شبِ معراج میں اللہ کو پانے والے
(حافظ)
۵۔ خود عرش نے بوسے لیے ایقان و ادب سے
کیسے ہو یہاں آپ کے نعلین کا عالم
(کلام لاکلام، ص۵۰، شاہ انصار الٰہ آبادی)
۶۔           نقشِ نعل پاک سلطانِ اُمم
بدر بن کہ عرش کے اوپر کھلا
۷۔          اُن کے نعلین کا مقام فلک
اُن کے نعلین تک مری پرواز
(بشیر حسین ناظم)
۸۔  عرش اعلیٰ کا بھی اعزاز بڑھا ہے اُن سے
سلسلہ فیض کا ایسا ترے نعلین میں ہے
(غلام قطب الدین فریدی)
۹۔  سُن کے جس نام کو جھک جائے عقیدت کی جبیں
جس کی نعلین کہ اُتری نہ سرِ عرش بریں
(ادیب رائے پوری)
۱۰۔  کیا سراپائے پیمبر کا مقام
نعل تک معراج میں ہے مقتدر
حوالہ جات:
٭۱۔       (سورۂ طٰہٰ :۱۲)
٭۲۔      الاثار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ، ص۳۳
٭۳۔     الاثار المرفوعہ، ص۳۳، طبع ادارہ احیاء السنہ
٭۴۔     فضائلِ نعلینِ حضور (مترجم) ص۳۶۲
٭۵۔     مقدمہ : فضائلِ نعلینِ حضور (مترجم) بار سوم، ص۴۴۔۴۵
٭۶۔      مقدمہ : فضائلِ نعلینِ حضور (مترجم) بار سوم، ص۹۸۔۹۹
٭۷۔     کتاب مذکور، ص۱۰۲
٭۸۔     زرقانی علی المواہب، ۳۲۳/۸
٭۹۔      ایضاً
٭۱۰۔    ایضاً، ص۲۲۳/۸
٭۱۱۔     غایۃ المقال، ص۷۲، مجموعۃ الرسائل، ص۲۲۸
٭۱۲۔    احکامِ شریعت، ص۱۶۶، مطبوعہ شبیر برادرز، لاہور
٭۱۳۔    مواہب اللدنیہ، ۳۸۲/۲، طبع بیروت
٭۱۴۔    اسنی المطالب فی احادیث مختلفۃ المراتب، ص۲۲۲
٭۱۵۔    المواہب اللدنیہ، ص۳۸۱/۲، مطبوعہ بیروت، لبنان
٭۱۶۔    زرقانی علی المواہب، ص۱۹۳/۸، مطبوعہ مکۃ المکرمہ
٭۱۷۔   احکامِ شریعت، ص۱۶۵
٭۱۸۔    اللآلی المنثورۃ، ص۱۴۷
٭۱۹۔    مختصر المقاصد الحسنہ، ص۹۱، اللآلی المنثورۃ، ص۱۴۷
تذکرۃ الموضوعات، ص۱۶۱، المضوع لمعرفۃ الحدیث الموضوع، (۲۰۳ مطبوعہ حلب)
ماخذ و مراجع
۱۔            الآثار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ، عبدالحئی لکھنوی، مولانا : مطبوعہ ادارہ احیاء السنہ، گوجرانوالہ
۲۔           فضائلِ نعلینِ حضورﷺ (مترجم)، امام المقری التلمسلمانی، طبع لاہور، ۲۰۰۰ء
۳۔          شرح زرقانی علی المواہب، الامام، محمد بن عبدالباقی، طبع مکۃ المکرمہ، ۱۹۹۶ء
۴۔          غایۃ المقال (مجموعۃ الرسائل) عبدالحئی لکھنوی، مولانا، طبع ادارۃ القرآن، کراچی
۵۔          احکام شریعت، احمد رضا خان، امام، شبیر برادرز، لاہور
۶۔           المواہب اللدنیہ بالمخ المحمدیہ، احمد قسطلانی، امام، طبع بیروت
۷۔          الآلی المنثورۃ فی الاحادیث المشتہرۃ، امام بدرالدین زرکشی، طبع اولیٰ، بیروت
{٭}

محمد شہزاد مجددی۔ لاہور.... اردو نعتیہ شاعری میں موضوع روایات  محمد شہزاد مجددی۔ لاہور.... اردو نعتیہ شاعری میں موضوع روایات Reviewed by WafaSoft on July 27, 2019 Rating: 5

No comments:

Comments

Powered by Blogger.