نعت
نبی کواپنا سلیقہ بنالیا
نبی کواپنا سلیقہ بنالیا
لفظوںکواس
طرح تروتازہ بنالیا
طرح تروتازہ بنالیا
قندیل
نعت میں نے جلاکر درونِ لفظ
نعت میں نے جلاکر درونِ لفظ
سینے
کواپنے نورکاہالہ بنالیا
کواپنے نورکاہالہ بنالیا
ہے
باعثِ نجات ثنائے حبیب رب
باعثِ نجات ثنائے حبیب رب
اپنے
سخن کااس کوحوالہ بنالیا
سخن کااس کوحوالہ بنالیا
سوچوں
کے بادبان پہ لکھ کرنبی کانام
کے بادبان پہ لکھ کرنبی کانام
میں
نے بھنور کواپنا سفینہ بنالیا
نے بھنور کواپنا سفینہ بنالیا
شاخِ
غزل میں پھول ثناکے جوکھل اٹھے
غزل میں پھول ثناکے جوکھل اٹھے
بخشش
کے واسطے انہیں زینہ بنالیا
کے واسطے انہیں زینہ بنالیا
روشن
ہوئے لبوںپہ درودوںکے جب چراغ
ہوئے لبوںپہ درودوںکے جب چراغ
میری
دعا نے عرش کا رستہ بنالیا
دعا نے عرش کا رستہ بنالیا
چوکھٹ
پہ ان کی جانہ سکا میں سعید جب
پہ ان کی جانہ سکا میں سعید جب
خوداپنے
دل کوشہرِ مدینہ بنالیا
دل کوشہرِ مدینہ بنالیا
سعیدرحمانی
کٹک
کٹک
نعت نبی کواپنا سلیقہ بنالیا
Reviewed by WafaSoft
on
July 28, 2019
Rating:


No comments: