الحزن 142۔۔ابُو طالب اور حضرت خدیجة الکبریٰ ؓ کی وفات
مِلا اس قید سے آخر
مُسلمانوں کو چھُٹکارا
مُسلمانوں کو چھُٹکارا
اسی انداز سے بہنے لگی
تبلیغ کی دھارا
تبلیغ کی دھارا
روایت ہے کہ دسواں سال
تھا عہد نبوت کا
تھا عہد نبوت کا
کہ ٹوٹا آخری رشتہ بھی
انسانی حمایت کا
انسانی حمایت کا
ابُو طالب سدھارے جانبِ
ملکِ عدم آخر
ملکِ عدم آخر
اٹھا سر سے چچا کا سایہ
لطف و کرم آخر
لطف و کرم آخر
وہ اُمّ المؤمنین ؓ جو
مادرِ گیتی کی عزّت ہے
مادرِ گیتی کی عزّت ہے
وہ اُمّ المؤمنین ؓ قدموں
کے نیچے جس کے جنّت ہے
کے نیچے جس کے جنّت ہے
خدیجہؓ طاہرہ یعنی نبیؐ
کی با وفا بی بی
کی با وفا بی بی
شریکِ راحت و اندوہ پابندِ رضا بی بی
دیارِ جاودانی کی طرف راہی ہوئیں وہ بھی
گئیں دنیا سے آخر سائے فردوسِ ِ بریں 143 وہ بھی
یہ بی بی تھیں وہ ہمدردِ
یتیمی تھے مُحمّدؐ کے
یتیمی تھے مُحمّدؐ کے
یہ دونو ں غمگسارانِ قدیمی تھے مُحمّدؐ کے
مشیّت کو مگر مد نظر تھی
شانِ یکتائی
شانِ یکتائی
محمّدؐ کی یہ تنہائی ہی
سامانِ یکتائی
سامانِ یکتائی
قریش اس وقت تک نامِ ِ ابوطالب سے ڈرتے تھے
عرب کے لوگ ان کے مرتبے
کا پاس کرتے تھے
کا پاس کرتے تھے
ابوطالب کے اٹھ جانے سے
ڈر جاتا رہا دل سے
ڈر جاتا رہا دل سے
یہ ہستی اک سِ پرتھی ہٹ
گئی مدِ ّ مقابل سے
گئی مدِ ّ مقابل سے
غُلامانِ محمّدؐ تھے حبش کے ملک میں اکثر
یہاں مکّے میں چند افراد
تھے یارانِ پیغمبرؐ
تھے یارانِ پیغمبرؐ
دکھائی اور سرگرمی پئے تبلیغ
سرورؐ نے
سرورؐ نے
تو باطِل آخری کوشش کے منصوبے لگا کرنے
مِلا اس قید سے آخر مُسلمانوں کو چھُٹکارا
Reviewed by WafaSoft
on
August 27, 2019
Rating:


No comments: