آئنہ اس کا روشنی اس کی
ساری تنویرِ زندگی اس کی
ہم بس اظہار کاوسیلہ ہیں
لفظ اس کے سخن وری اس کی
مٹی کی فوقیت ہے ہرشئے پر
یہ بھی ہے کارکردگی اس کی
اس کے پابند اشکِ رنج ومحن
اور ہرہونٹ پر ہنسی اس کی
ٹوٹے پتے کی بے بسی اس سے
سبزہ گل کی تازگی اس کی
ختم ہیں قہروجبر سب اس پر
رحمت بے پناہ بھی اس کی
لوگ ذرے ہیں کائنات ہے وہ
کرسکا کون ہم سری اس کی
ہم ہیں پابندحرف وفکرظہیرؔ
اور ہرشئے میں شاعری اس کی
ظہیرؔغازیپوری ہزاریباغ
آئنہ اس کا روشنی اس کی
Reviewed by WafaSoft
on
July 28, 2019
Rating:


No comments: