آئنہ
اس کا روشنی اس کی
اس کا روشنی اس کی
ساری
تنویرِ زندگی اس کی
تنویرِ زندگی اس کی
ہم
بس اظہار کاوسیلہ ہیں
بس اظہار کاوسیلہ ہیں
لفظ
اس کے سخن وری اس کی
اس کے سخن وری اس کی
مٹی
کی فوقیت ہے ہرشئے پر
کی فوقیت ہے ہرشئے پر
یہ
بھی ہے کارکردگی اس کی
بھی ہے کارکردگی اس کی
اس
کے پابند اشکِ رنج ومحن
کے پابند اشکِ رنج ومحن
اور
ہرہونٹ پر ہنسی اس کی
ہرہونٹ پر ہنسی اس کی
ٹوٹے پتے کی بے بسی اس سے
سبزہ
گل کی تازگی اس کی
گل کی تازگی اس کی
ختم
ہیں قہروجبر سب اس پر
ہیں قہروجبر سب اس پر
رحمت
بے پناہ بھی اس کی
بے پناہ بھی اس کی
لوگ
ذرے ہیں کائنات ہے وہ
ذرے ہیں کائنات ہے وہ
کرسکا
کون ہم سری اس کی
کون ہم سری اس کی
ہم ہیں پابندحرف وفکرظہیرؔ
اور
ہرشئے میں شاعری اس کی
ہرشئے میں شاعری اس کی
ظہیرؔغازیپوری
ہزاریباغ
ہزاریباغ
آئنہ اس کا روشنی اس کی
Reviewed by WafaSoft
on
July 28, 2019
Rating:


No comments: