۱؎
ہے تجھ سے دل کو اپنے لگایاجوکچھ ہے سوتوہی ہے (بہادرشاہ ظفرؔ)
ہے تجھ سے دل کو اپنے لگایاجوکچھ ہے سوتوہی ہے (بہادرشاہ ظفرؔ)
توخالق
ومالک تونے بنایا جوکچھ ہے سوتوہی ہے
ومالک تونے بنایا جوکچھ ہے سوتوہی ہے
دھرتی
سجی آکاش سجایا جوکچھ ہے سوتوہی ہے
سجی آکاش سجایا جوکچھ ہے سوتوہی ہے
ماہ
وانجم مہرِمنور سیارے اورسارا نظام
وانجم مہرِمنور سیارے اورسارا نظام
ندھیارے
میں دیپ جلایا جوکچھ ہے سوتوہی ہے
میں دیپ جلایا جوکچھ ہے سوتوہی ہے
سوکھابیتاساون
اترا جل تھل جیون کے کھیل
اترا جل تھل جیون کے کھیل
دھرتی
کی پلٹی کایا جوکچھ ہے سوتوہی ہے
کی پلٹی کایا جوکچھ ہے سوتوہی ہے
نبی
تیرے اوتار پیمبر صوفی تیرے دوت
تیرے اوتار پیمبر صوفی تیرے دوت
اپنی
کتھا میں سب سنایا جوکچھ ہے سوتوہی ہے
کتھا میں سب سنایا جوکچھ ہے سوتوہی ہے
اپنی
ہوس ہے اپنی پوجا لیکن پھربھی لاچاری
ہوس ہے اپنی پوجا لیکن پھربھی لاچاری
اور
فراز نے دیکھا بھی کیا جوکچھ ہے سوتوہی ہے
فراز نے دیکھا بھی کیا جوکچھ ہے سوتوہی ہے
قاضی
فراز احمد رتناگیری
ایک تحقیق کے مطابق بہادرشاہ ظفرکی یہ نعت عوامی تھی جسے بیشتر ہندوسازپہ
گاتے تھے مگر یہ گمشدہ نعت دیوان میں مفقود ہے(قاضی فراز
توخالق ومالک تونے بنایا جوکچھ ہے سوتوہی ہے
Reviewed by WafaSoft
on
July 28, 2019
Rating:


No comments: